خوشی میں وقت بہت تیزی سے کیوں گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے؟

0
78

لاہور(اے ون نیوز)کیا کبھی ایسا ہوا ہے جب آپ بہت خوش ہوں اور کسی من پسند سرگرمی کا حصہ ہوں تو ایسا محسوس ہو کہ وقت تو پر لگا کر گزر رہا ہے جبکہ جب بیزار یا اداس ہو تو وقت کاٹنا مشکل ہوجاتا ہے؟

اگر ہاں تو آپ اکیلے نہیں ایسا کروڑوں افراد کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی وجہ آپ کا دماغ ہے۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہمارا دماغ وقت گزرنے کے احساس کو مختلف رفتار سے پیش کرتا ہے اور اس کا انحصار ہماری مصروفیت یا بیزاری پر ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر جب آپ کوئی ایسا کام کررہے ہوں جو مخصوص وقت میں کرنا ہو یا کسی پیچیدہ مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہوں تو وقت اڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اسی طرح گیم کھیلتے ہوئے، کسی اچھی فلم کو دیکھتے ہوئے یا کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی وقت کو پر لگ جاتے ہیں۔اس دوران دماغ مختلف منظرناموں کو دیکھتا ہے جس کے نتیجے میں لگتا ہے کہ جیسے وقت کو پر لگ گئے ہیں اور اس کے برعکس جب آپ بیزار ہوتے ہیں تو دماغ کے لیے وقت کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔

محققین کے مطابق دماغ میں وقت کے حوالے سے مختلف میکنزم ہوتے ہیں، جن میں سے ایک میکنزم رفتار کا ہے جو کہ دماغی خلیات کو متحرک کرکے کسی سرگرمی کے لیے نیٹ ورک کو تشکیل دیتا ہے۔

یہ خلیات جتنی تیزی سے اپنا راستہ بناتے ہیں، اتنا ہی ہمیں وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ ہمارا دماغ وقت کو ٹریک کرنے کے حوالے سے زیادہ درست کام کیوں نہیں کرتا مگر اس کا بھی ہمیں فائدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زندگی میں مختلف واقعات پیش آتے ہیں اور جب آپ ماضی میں پلٹ کر دیکھیں تو ہماری یادیں مختلف طریقے سے کام کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ کسی طویل پرواز کو ذہن میں لائیں، مگر آپ ہمیشہ طویل پروازوں کا حصہ بنتے رہے ہیں تو آپ کو وہ بہت تیزی سے یاد آئے گی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر کے ساتھ وقت کی رفتار زیادہ تیزی سے گزرتی محسوس ہونے لگتی ہے، بچپن میں ہمارا دماغ یاداشت کے گنجان نیٹ ورک کو تشکیل دیتا ہے تاکہ اس زمانے کے واقعات اور تجربات یاد رہ سکیں۔

بڑے ہونے پر لوگ بہت کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں اور ان میں اس طرح کے گنجان نیٹ ورک کی ضرورت نہیں ہوتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here