چمچہ چمچہ کھاواں گے اپنا ملک بچاواں گے…..مدثر بھٹی

الیکشن کا موسم ہو اور آپ لاہور شہر میں شوق آوارگی پورا کر رہے ہوں تو کسی نہ کسی سڑک پر آپ کوگدھا گاڑی پر کرسی ڈالے،کلف لگی مونچھیں ، سر پر لِٹ والی سرخ ترکی ٹوپی جس پر آپ جناب سرکار پارٹی لکھا ہوا ہے اور ہاتھ میں بید کی چھڑی لیےایک شخص اپنی کمپین کرتا ملے گاجس کا نام نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ ہے۔دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی مسخرہ ہے جو پرانے زمانے کی طرح کسی چیز کی تشہیری مہم پر نکلا ہوا ہے۔ پاکستان میں بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گیا کہ یہ دنیا میں اپنی طرز کا واحد کردار ہے اس سے پہلے اور اس کے بعد شاید ہی کوئی ایسا کردار سامنے آئے۔ پاکستانی سیاست کا یہ وہ کردار ہے جو ایک انتہائی سنجیدہ کام کو غیر سنجیدگی سے کر رہا ہے۔

میرے اس جملے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ باقی ارباب سیاست اپنے سیاسی کردار کو سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں، ایسا نہیں ہےبلکہ باقی لوگوں کی سیاست اور نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ کی طرز سیاست کا فرق عدالت واضح کرتی ہے ۔ کیونکہ جیسے ہی ہمارے سیاست دان پکڑے جاتے ہیںتو ان کا مسخرہ پن سب سے پہلے ان مختلف بیماریوں کی صورت میں سامنےآتا ہے جو کبھی ان کو ہوتی ہی نہیں۔ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ جو مسخرے کا بھیس بنائے شہر میں پھر رہا ہے دراصل وہ ایک انتہائی سنجیدہ آدمی ہے اور سیاست کے میدان کے وہ تمام کھلاڑی جو خود کو بہت سنجیدہ کردار کے طور پر پیش کرتے ہیںدرحقیقت وہ مسخرے ہیں۔

نواب صاحب کو میں بہت پرانا جانتا ہوں، ایک پڑھے لکھے صاحب طرز ادیب، فلسفی، شاعر اور نثر نگار ہیں۔ 2004 میں خود کو بطور متبادل وزیر اعظم پیش کیا تو بہت سے اخبارات اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنےپھر ایک مدت تک ان کا متبادل وزیر اعظم کا نعرہ قرب و جوار میں گونجتا رہا۔ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اب تک 43 الیکشنوں میں حصہ لیا مگر کامیابی ان سے ایسے ہی دور رہی جیسے پاکستانی عوام سے خوشحالی۔

اکتوبر 2018 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میںوہ حلقہ 131 سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں اور انہوں نے جو منشور پیش کیا ہے اس میں کہا ہے کہ نیم کرپٹ آئے گا تو ملک ترقی پائے گا۔ جس پر میں نے انہیں فون کر کےکچھ سوال پوچھے تو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا اصل نعرہ تو یہ ہے کہ حکمران کو ضرورت کے تحت کرپٹ ہونا چاہیے اگر حکمران ضرورت کے تحت کرپٹ ہوں گے تو ملک خوشحال ہو گا مگر بدنصیبی یہ ہے کہ 70 سالوں میں ہمارے حکمران خواہش کے تحت کرپشن کرتے آئے ہیں جس سے امیر آدمی امیر اور غریب بہت نیچے چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی کرپشن کو ختم نہیں کر سکتا اللہ نے دنیا کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ہر چیز کا ایک متضاد پیدا کیا اور انسان کو دنیا کے اس اکھاڑے میں اچھائی برائی نیکی بدی سب چیزوں سے آگاہ کر کے بھیجا اور اس کو برائی سے بچنے اور اچھائی اختیار کرنے کا حکم دیا ساتھ ہی اللہ نے اپنی کتاب میں کہا کہ نیکی کے کاموں میں تعاون کرو اور برائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کرو۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرپشن ختم نہیں ہو سکتی البتہ اس کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے، ہمارے حکمران کرپشن کو ختم کرنے کے جھوٹے نعرے لگا کر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، میرا سب سے سوال ہے کہ کرپشن کیسے ختم ہو گی کیا اللہ کے بنائے قوانین کو ختم کر دیا جائے گا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا۔کرپشن کو ممکنہ حد تک کم تو کیا جاسکتا ہے مگر اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ضرورت کے تحت کرپٹ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکمران ایسا ہو جس کے تمام اثاثے اور تمام اولادیں پاکستان میںہی ہوں، ان کا کوئی کاروبار ملک سے باہر نہ ہو جس کا سب کچھ پاکستان میں ہوگا وہ لازمی طور پر ضرورت کے تحت کچھ تھوڑی بہت کرپشن کرے گا اور اس سے ملک میں مہنگائی، کساد بازاری کا وہ سونامی نہیں آئے گا جس نے آج ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔سیاستدانوں کے پاس بھی عام لوگوں کی طرح گھر ہوں ان کا کاروبار ہوان کے محلات نہ ہوں۔ اس کو آپ کہہ لیں ضرورت کے تحت کرپشن۔ لیکن جب کوئی خواہش کے تحت کرپٹ ہوتا ہے تو چونکہ خواہشات اور سمندر کا دوسرا کنارہ نہیں ہوتا اس لیے خواہش کے تحت ہونے والی کرپشن سے ملک سے دولت لوٹ کر باہر بھیجی جاتی ہے اور اس سے غیر ممالک میں کاروبار کیے جاتے ہیں جس سے ملک کو ہر طرح نقصان پہنچتا ہے بلکہ ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

میری رائےمیںحلقہ 131 کے الیکشن میں ان کو ووٹ دینا چاہیےان کی ایک سیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کسی کو نقصان نہیں ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر حکمران تھوڑا تھوڑا کھاتے جیسا کہ باقی دنیا میں ہوتا ہے تو لازمی ملک ترقی کرتا مگر یہاں جس کا ریکارڈ چیک کریں میگا کرپشن ہوتی ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں ’’چمچہ چمچہ کھاواں گے اپنا ملک بچاواں گے‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں