اسمبلی میں مرزا ناصر قادیانی سے مفتی محمود صاحب کا مکالمہ ……مدثر بھٹی

چند ایام ہوئے کہ عاطف میاں کے حوالے سے ایک بہت بڑی بحث چھڑی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا کے دانشوروں سمیت دیگر اہل دانش نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا، گو کہ عاطف میاں کو اقتصادی کونسل سے نکال کر حکومتی سطح پر یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے، مگر اس دوران ہمارے وزیر اطلاعات جناب محترم فواد چوہدری صاحب نے اپنی طرف سے ایک پر مغز تقریر فرمائی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مرزائی اس ملک میں اقلیت قرار پا چکے ہیں اور ایک مسلم ملک ہونے کے ناطے یہاں اقلیتوں کے حقوق ہیں اور پاکستان ان حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ میں وزیر محترم کی دانش مندی اور اقلیتوں کے لیے ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں ساتھ ہی ان سے درخواست بھی کروں گا کہ جب کوئی بیان جاری فرمائیں تو اس کی بابت حقائق معلوم کر لیا کریں، یہ مضمون ان کی آگاہی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ جس اقلیت کو انہوں نے حقوق دینے کی بات کی ہے انہوں نے آج تک بطور جماعت تک خود کو اقلیت تسلیم ہی نہیں کیا۔ اور وہ جماعت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف عمومی طور پر اور مملکت خدادادِ پاکستان کے خلاف خصوصی طور پر برسر پیکار ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز ملا تو انہوں نے کہا کہ اگر تو پاکستان میں مرزائیوں کو مسلمان تسلیم کر لیا جائے تو وہ یہ کہنا پسند کریں کے کہ یہ نوبل پرائز ایک پاکستان کو ملا ہے ورنہ وہ خود کو پاکستانی کہلانا پسند نہیں کرتے۔

جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔ متشرع سفید داڑھی۔قرآن کی آیتیں بھی پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بھی پڑھتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ قبلہ مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں ”یہ مسئلہ بہت بڑا اور مشکل تھا“ اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ مرزا ناصر قادیانی کے طویل بیان کے بعد جب جرح کا آغاز ہوا تو اسی مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ ”ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا“ اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا ناصر قادیانی کی طرف سےدیئے جانے تھے قبلہ مفتی محمود صاحب کی طرف سے سوالات کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا۔

مفتی صاحب: مرزا غلام احمد (لعنت اللہ علی کل حال) کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

مرزا ناصر قادیانی: (لعنت اللہ علی کل حال) وہ امتی نبی تھے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔

مفتی صاحب: اس پر وحی آتی تھی؟
مرزا ناصر قادیانی:آتی تھی۔

مفتی صاحب: (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟
مرزا ناصر قادیانی:بالکل نہیں۔

مفتی صاحب: مرزا قادیانی نے لکھا ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا“ خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
مرزا ناصر قادیانی: کافر تو ہیں۔لیکن چھوٹے کافر ہیں“ جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں ”کفردون کفر“ کی روایت درج کی ہے۔

مفتی صاحب: آگے مرزا نے لکھا ہے۔پکا کافر؟

مرزا ناصر قادیانی: اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔

مفتی صاحب: آگے لکھا ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چھوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟

مرزا ناصر قادیانی:دراصل دائرہ اسلام کی کئی کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔

مفتی صاحب: ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ جہنمی بھی ہیں؟(یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قومی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کھڑے ہوگئے کہ اچھا ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)
مفتی صاحب: کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓیا حضرت عمر فاروق ؓامتی نبی تھے؟

مرزا ناصر قادیانی: نہیں تھے۔

اس جواب پر مفتی صاحب نے کہا پھر تو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجھتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجھتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

مرزا ناصر قادیانی:وہ فنا فی الرسول تھے۔یہ ان کا اپنا کمال تھا۔وہ عین محمد ہوگئے تھے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تھی )
مفتی صاحب: مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکھا ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹھاتا ہے۔ مجھے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکھی ہے۔وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔؟

مرزا ناصر قادیانی: بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔

مفتی صاحب: بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا“ (سورہ مریم) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تھی“

مرزا ناصر قادیانی: قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بھی مذکور ہے یعنی ”البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه“ (پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکھا سکتے۔!!! (اور مرزا ناصر لاجواب ہوا)

یہاں 13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گھڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔ جن میں مفتی محمود صاحب“ مولانا شاہ احمدنورانی صاحب“ پروفیسر غفور احمد صاحب“ چودہری ظہور الٰہی صاحب“ مسٹر غلام فاروق صاحب“ سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تھے۔ ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔ تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کر دیا جائے۔ لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تھا۔۔۔۔۔کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔ گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔

اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز“ کیسے لکھا جائے۔؟مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔۔۔۔22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔ سب سے زیادہ جھگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسئلے پر ہوا۔ حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔ اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تھی۔ ایک بلوچستان میں۔ ایک سرحد میں۔ ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بھی لکھے ہیں۔ عیسائی۔ہندو پارسی۔ بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچھوت۔ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تھے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بھی شامل کیا جائے۔ تاکہ کوئی ’’شبہ‘‘ باقی نہ رہے۔ اس کے لیے بھٹو حکومت تیار نہ تھی۔ وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔ مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بھی لکھ دیں۔ پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تھا کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے دے رہے ہیں ۔

اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی۔ چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بھٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔ لیکن یہاں بھی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔ حکومت کی کوشش تھی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسئلہ رہنے دیا جائے۔ جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجھتے تھے کہ اس کے بغیر حل ادھورا رہے گا۔ بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بھٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔ عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بھی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکھا اور اس کی تصریح کی جائے۔ اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکھا جائے۔پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔ مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔ پھر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔ وزیرقانون نے نکتہ اٹھایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا اور پھر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ ابلیس۔ خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔ کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہٰذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔ لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔ اور پھر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔

تاریخی فیصلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ 7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تھا جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔ ”جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکھتا ہو۔ اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بھی معنی و مطلب یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔ وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔

اور دفعہ 106 کی ترمیم کے بعد یہ قرار پایا کہ بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ ہندو سکھ۔ بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانی گروہ یا لاہوری افراد(جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکھتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔ سرحد میں ایک۔ پنجاب میں تین۔ اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا۔ اس موقع پر مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔ اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ میرے خیال میں مرزائیوں کو بھی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں