ایشیائی ہم جنس پرستوں کے مسائل !تحریر،شکیل قمر

تحریر،شکیل قمر
ایشیائی ہم جنس پرستوں کے مسائل پر روشنی ڈ التے ہوئے برٹش پاکستانی آصف قریشی نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے فلاحی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایشیائی ہم جنس پرستوں کی مدد کے لئے مزید اقدامات کریں کیونکہ برطانیہ میں مقیم ایشیائی ہم جنس پرست اپنی کمیونٹی سے باہر نکال دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اُنہیں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

برطانیہ میں ایشیائی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے علمبردار آصف قریشی نے فلاحی اداروں پر زوردیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مہیا کریں ایشیائی ہم جنس پرستوں کے مسائل پر اس سے پہلے بھی اخبارات میں کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور اس بحث نے اُس وقت زیادہ شدت اختیار کر لی تھی جب برطانیہ میں ہم جنس شادیوں کے حق میں قانون سازی کی جارہی تھی ظاہر ہے ہم جنس پرست آپس کی شادیوں کے قانون کے حق میں تھے مگر برطانیہ کی حکمران جماعت کی ایک اہم ر کن ا وراُس وقت کی سینئرمنسٹر بیرونس سعیدہ وارثی نے اُصولی طور پر اُس قانون کے بنائے جانے کی مخالفت کی تھی یاد رہے کہ بیرونس سعیدہ وارثی برٹش پاکستانی مسلم خاتون ہیں اُنہوں نے ہم جنس شادیوں کے لئے بنائے جانے والے قانون کی مخالفت اپنے سرکاری عہدے کی بنا پر کی تھی کیونکہ وہ ہوم آ فس منسٹر اور فیتھ اینڈ کمیونیٹیز منسٹر بھی تھیں۔ ویسے تو ایسے کسی قانون کے بنائے جانے کی مخالفت کرنا ہر راسخ العقیدہ مسلمان کا فرضِ اولین ہے کیونکہ ہر انسان اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے اﷲ سبحان و تعالی کے قائم کئے ہوئے اُصولوں کے مخالف کسی بھی قانون کو قبول کرنا بالکل ہی ناممکن ہے

یہاں اس بات کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ اﷲ سبحان و تعالی کے قائم کئے ہوئے اُصول بہت ہی جامع اور حتمی ہیں اُن میں ترمیم یا تبدیلی کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے اور ایسا فعل کرنے والوں کو ہر گز ہر گز یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس طرح کے اقدامات کرنا اﷲ سبحان و تعالی کے قہر کودعوت دینے کے مترادف ہو گا بیرونس سعیدہ وارثی نے ہم جنس شادیوں کے قانون کی مخالفت میں جو نکات اُٹھائے تھے اُن میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ میں ایسے کسی قانون کی منظوری سے قبل مسلمانوں سمیت مختلف مذاہب کے تحفظات کو مدِنظر نہ رکھا گیا تو ہم جنس شادیوں کے متنازع قانون کے غیر معمولی نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ہم جنس شادیوں کو قانونی شکل دیدی گئی تو برطانیہ کی پندرہ سو سے زائد مساجد کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ قانون بن جانے کی صورت میں مساجد کے اندر ہم جنس شادیوں کی اجازت دینا ہوگی اور اس سے انکار کی صورت میں سزا اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اُنہوں نے یہ نکتہ بھی اُٹھایا تھا کہ مذہبی سکولوں کو قانون کے تحت بچوں کو ہم جنس شادیوں کی تدریس کرنا ہوگی اور یہ تدریس نصاب کا ضروری حصہ یا جزو بن جائے گی۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں، صہیونیوں اور مسیحیوں سمیت مختلف مذاہب اور کمیونیٹیز نے ہم جنس شادیوں کے قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے لہذا نئے قانون کے تحت کس طرح مذہبی آزادی کا تحفظ ممکن ہوگا ؟ اُنہوں نے پوچھا تھا کہ چرچ یا دیگر عبادت گاہوں کی جانب سے انفرادی طور پر یا ادارہ جاتی طور پر اس قانون کو چیلنج کیا گیا تو کیا اُن کی قانونی مدد کی جاسکے گی اگر مختلف عبادت گاہوں نے ہم جنس شادیوں سے انکار کر دیا تو اُن کو کیا تحفظ دیا جائے گا؟ بیرونس سعیدہ وارثی نے اپنے تحفظات میں یہ بھی کہاتھا کہ اس قانون سے مساجد کے امام سمیت دیگر مذہبی رہنما دباؤ میں آجایں گے اور ہم جنس شادیاں کرانے سے انکار پر اُن کو مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ بحیثیت سینئر منسٹراُس وقت اُنہوں نے اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے اپنے تحفظات کا بخوبی اظہار کر دیا تھا۔

اس جگہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں مذہبی رہنماوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ کیا مختلف آسمانی مذاہب کے پیروکار اﷲ سبحان وتعالی کے اَزلی اُصولوں کے خلاف بنائے جانے والے اس قانون کو برداشت کر سکیں گے؟ یہ ایک بہت ہی متنازع مسئلہ ہے اور اس قسم کے اور بہت سے مسائل جن کا تعلق براہ راست ہم جنس پرستوں کے حقوق سے ہے اُن کے بارے میں بھی غور وخوض کرنے کی اَشد ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں