پانی اور بجٹ2018،تحریر،حسنین جمیل

صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کی قائم ہونے والی نئی حکومت نے بجٹ 2018ءکا اعلان کر دیا۔ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے بجٹ میں واٹر سپلائی اور نکاسی آپ کے لیے ساڑھے 20ارب اور آب پاشی کے لیے 38ارب روپے رکھے ہیں۔ مجموعی طور پر پانی کے حوالے سے 58ارب روپے میں جو پنجاب حکومت نے پانی کے لیے صوبے میں مخصوص کیے ہیں۔ ماضی میں بھی پانی کے لیے روپے بجٹ میں مختص کیے جاتے رہے ہیں مگر پچھلی پنجاب حکومت نے مہنگے منصوبوں اورنج لائن ٹرین کی تکمیل کے لیے پانی اور صحت کے شعبے سے پیسے نکال کر اورنج لائن ٹرین پر لگائے تھے جس کا اعتراف پنجاب اسمبلی میں اجلاس کے دوران اس وقت کے ایک صوبائی وزیر نے کیا تھا۔ اس وقت پاکستان میں پانی کی صورت حال خاصی خراب ہے ۔

قومی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان پانی کے حوالے سے خاصے فکرمند ہیں اور بہت سے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ جہاں انہوں نے دیامیر بھاشاڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا وہاں انہوں نے ایک واٹر کانفرنس کا بھی انعقاد کیا ہے۔ حال ہی میں پانی سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے انہوں نے زیرزمین پانی کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے قانون اور انصاف کمیشن کو 26روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے یہ پانی مفت نہیں ہونا چاہیے اس کی قیمت ہونی چاہیے۔ اور اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ پانی کے لیے ہرممکن حد تک جاﺅں گا۔ سندھ طاس معاہدے پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس کی منعقد کردہ واٹر کانفرنس میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی شرکت کی اور تھر میں پانی کی کمی کا ذکر اور اس بات کا اظہار کیا۔ ماضی میں جو کوتاہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ہوئی اب نہیں ہوں گی۔ وطن عزیز میں اس وقت 21ملین لوگوں کو اپنے گھر کے قریب صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ان کو پانی حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکل کر دور جانا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان میں فی کس کے حساب سے پانی کی دستیابی کو دیکھا جائے تو 1947ءمیں 5300 c.m تھی جو 2017ءمیں 1000 c.m ہو گئی اور2047ءتک 500 c.m شدید کمی ہو جائے گی جو بہت زیادہ تشویش ناک بات ہے۔ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں لوگوں کی بڑی تعداد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ پینے کا پانی 96%زمین سے نکالا جاتا ہے جس کا اشارہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کیا تھا۔ ہمارے سکولوں کا یہ حال ہے کہ 10میں 4سکولوں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ صفائی سے متعلق قومی حقائق خاصے خوف ناک ہیں۔ 11.5لوگ رفع حاجت کھلی جگہ پر کرتے ہیں۔79ملین افراد کو صاف ستھرے واش روم دستیاب نہیں ہیں۔ ہر تین میں ایک سکول میں واش روم کی سہولت موجود نہیں ہے۔

حفظان صحت سے متعلق قومی حقائق خاصے فکرمند کر دینے والے ہیں۔ 46%آبادی کو گھر میں صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ جس میں 26%شہری آبادی شامل ہے اور 56%دیہاتی آبادی شامل ہے۔ صرف 20%گھر کوڑا جمع کرنے کا نظام رکھتے ہیں ان میں 6%نجی طور پر اور 17%بلدیہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ صرف 6%دیہاتی گھر میں کوڑا جمع کرنے کا نظام رکھتے ہیں۔ غیر محفوظ پانی کے حفظان صحت پر خاصے بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر سال پانچ سال سے کم عمر 19500بچے دست سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پانی کے ذرائع بہتر بنا کر دست لگنے کے امکانات کو 20%کی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔صابن سے ہاتھ دھونے سے صحت میں بہتری آتی ہے ،سکولوں میں غیر حاضری 43%تک کمی کی جا سکتی ہے۔ ناقص غذائیت کے 50%کیسوں کی بڑی وجہ بار بار دست لگنا ہے اور پیٹ کے کیڑوں کی وجہ سے ہونی والی بیماریاں ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر 45%بچوں کی نشوونما رُکی ہوئی ہے۔

اس ساری صورت حا ل میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پنجاب حکومت نے بجٹ میں 58ارب روپے پانی کے حوالے سے مخصوص کیے ہیں اور صحت اور تعلیم کے حوالے سے بھی اربوں روپے رکھے گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی پانی کے حوالے سے غفلت نہ برتی جائے جو رقم جس کام کے لیے مخصوص ہے اس کو اس پر لگایاجائے۔ آج کل نیب میں صاف پانی کے حوالے سے بھی تحقیقات چل رہی ہیں۔ ہمیں اپنا کل محفوظ بنانے کے لیے آج سے ہی کام کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں