ایسا پھر ہو سکتا ہے ،تحریر،حسنین جمیل

hassnainjamil@yahoo.com
31اکتوبر سے برپا ہنگامہ آخرکار اختتام پذیر ہوا۔ جاتے جاتے مولانا سمیع الحق کی ہلاکت اور جنرل حمید گل مرحوم کے بیٹے پر قاتلانہ حملے کا باعث بن گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر ہیں جہاں 4سے 6ارب ڈالر کے امدادی معاہدے متوقع ہیں۔ حالیہ سعودی عرب کے کامیاب دورے کے بعد چین سے ملنے والی امداد اور خاص طور پر سعودی عرب کے طرز کے معاہدے جس میں کروڑوں ڈالر پاکستانی بینکوں میں رکھنے کی بات چیت ہوئی ہے جس کے طے پا جانے سے ملکی معیشت کی دگرگوں صورت حال میں بہتر آنے کی توقع ہے۔ ایسے میں ملک میں امن امان کی فضاﺅں کا پرامن ہونا بہت ضروری ہے۔ 31اکتوبر کو ملک کی سب سے بڑی اور معتبر عدالت نے ایک فیصلہ دیا۔ جسے اردو زبان میں لکھا گیا۔ باقاعدہ قرآن احادیث کی روشنی میں ایک جامع تحقیق کے بعد یہ سمجھا گیا کہ آسیہ بی بی نے توہین رسالت نہیں کی۔مگر اس کے باوجود ایک ہنگامہ برپا کر دیا گیا۔ تین دن تک ملک کی کاروبار زندگی مفلوج کر دی گئی۔لیکن حالیہ دھرنے اور مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران دیئے گئے دھرنے کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ایک بات صاف نظر آتی ہے کہ جب مسلم لیگ نواز کی حکومت تھی وزیراعظم شاہدخاقان عباسی تھے اور وزیر داخلہ احسن اقبال تھے۔ اس دوران حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ دھرنے والوں سے مذاکرات رینجر نے کیے تھے اور معاہدہ بھی ان کے درمیان ہوا تھا جبکہ اس دھرنے میں وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا اور دھرنے کے اختتام پر معاہدہ وفاقی وزیر مذہبی اور ڈاکٹر نورالحق قادری اور صوبائی وزیر قانون داخلہ راجہ بشارت کے درمیان ہوا۔ یہاں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم کے خطاب کے بعد طاقت کا استعمال کیوں نہیں کیا۔ خاص کر تب جب دھرنے میں سپریم کورٹ کے معززجج صاحبان اور سپہ سالار کے خلاف گھٹیا زبان اور کفر کے نعرے لگائے گئے۔

کسی بھی حکومت کی ہمیشہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ دھرنے والوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے۔ طاقت کے استعمال کو آخری حربے کے طور پر رکھا جائے۔ ریاست اپنے باغی بچوں کے ساتھ طاقت کا استعمال آخر میں ہی کرتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا پیپلزپارٹی کی حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا ختم کرانے کے لیے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے آدھی کابینہ کو طاہر القادری کے کنٹینر میں بھیج دیا تھا اور ایک معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کو کیے ہوئے آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ اس دوران 2حکومتیں بدلی جا چکی ہیں۔ پھر ایک معاہدہ توہین رسالت قانون میں ایک شق بدلنے کے خلاف دیئے گئے دھرنے میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے ساتھ کیا گیا تھا اس معاہدے کا کیا ہوا۔ دراصل ایسے معاہدے صرف دھرنے ختم کرانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔حالیہ برسوں میں ریاستی طاقت کے دو مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، ایک لال مسجد آپریشن اور ماڈل ٹاﺅن آپریشن۔حکمران آج تک ان مقدمات سے جان نہیں چھڑا پائے ایسے میں تحریک انصاف کی نومود حکومت ریاستی آپریشن کا حربہ استعمال کیسے کر سکتی تھی جو ویسے ہی ملک کی بگڑتی معیشت کو سنبھالنے کے مشن پر لگی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا۔ اب جب کہ دھرنا ختم ہو چکا ہے تو ملک کے تین بڑوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔ وزیراعظم چیف جسٹس اور آرمی چیف کو ایک نکتے پر یکسوہونا پڑے گا۔ جب آئندہ ایسے حالات ہوں انتہا پسند کا زہر ریاست کی رگوں میں اترنے لگے تو ریاستی طاقت کا استعمال کرتے وقت حکومت فوج اور سپریم کورٹ ایک نکتے پر متفق ہوں کہ آپریش کیا جائے بعد میں حکومت کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ غالب امکانات ہیں۔

آئندہ بھی ایسے فسادات برپا ہوں گے ۔ آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر ہو گئی ہے جس کا فیصلہ اسی بنچ نے کرنا ہے اور اگر یہی فیصلہ برقرار رہا جس کے غالب امکانات ہیں تو کیا پھر تحریک لبیک والے ایک غیرآئینی مطالبہ لے کر سڑکوں پر بیٹھ جائیں گے۔ اس صورت حال سے کیسے نمٹنا ہے اس کے لیے تینوں بڑ¶ں کو ابھی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔مولانا سمیع الحق کی ہلاکت بھی کیا ایسی ہی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر کی گئی۔ ان کے ہر حکومت کے ساتھ اچھے مراسم رہے۔ ان کے مدرسہ جامعہ حقانیہ جس کو ہر حکومت نے گرانٹ دی، اس پر عالمی میڈیا خاصے اعتراضات اٹھاتا ہے۔ طالبان کی تمام مرکزی قیادت یہاں سے پڑھ کر نکلی اور بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث لوگ بھی اس مدرسے کے فارغ التحصیل تھے۔

نوٹ:اے ون ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں