کپتان ایک نظر اِدھر بھی ،تحریر،حسنین جمیل

hassnainjamil@yahoo.com
یہ بھی ایک گمان ہوتا ہے کہ میں ایک نیک ہوں تو میری ساری ٹیم بھی نیک ہو سکتی ہے۔ ٹیم ورک کے بغیر کامیابی کبھی نہیں ملتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1992کے ورلڈ کپ کی فتح میں کپتان کا کردار کلیدی تھا وہ ایک جنگجو کپتان تھا ، ہمت ہارنا مایوس ہونا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا، زخمی کندھے کے باوجود وہ وقار یونس کے ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے باوجود باﺅلنگ کرتا رہا۔ سلیم ملک جیسا باکمال بلے باز پورے ورلڈ کپ میں آﺅٹ آف فارم رہا۔ کپتان ون ڈون بلے بازی کرتا رہا، اعجاز احمد سے باﺅلنگ کرواتا رہا۔ وسیم حیدر اور اقبال سکندر کو بھی آزماتا رہا مگر ان تمام باتوں کے باوجود ورلڈ کپ کی فتح عظیم جاوید میاں دار جو پورے ورلڈ کپ میں 437رنز بنانے اس کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ وسیم اکرم عاقب جاوید، مشتاق احمد، رمیز راجہ، انضمام الحق، عامر سہیل ا ور معین خان کے کردار کو اس نکتے کو سیاسی عمل میں دیکھا جائے اور انقلاب روس کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے ۔ روس زار کے خلاف لینن جب انقلاب لے کر آیا تو وہ اکیلا تھا ہرگز نہیں اس کے پیچھے اس کی تربیت یافتہ بالشویک پارٹی تھی جو مارکسی فکر کے مطالعہ سے مالامال تھی اگر روس میں بالشویک پارٹی نہ ہوتی تو سوچئے کیا روس میں زار کے خلاف 1917کا انقلاب کامیاب ہوتا۔ انقلابی پارٹیاں نہ صرف انقلاب لانے کا کام کرتی ہیں بلکہ انقلابی عمل مکمل ہونے کے بعد حکومتیں بھی چلاتی ہیں۔ 1970ءکے تاریخ ساز اتخابات میں کامیابی کے بعد سوشلزم کو اسلام کے غلاف میں لپٹنے کے بعد ایساہی ایک گمان ذوالفقار علی بھٹو کو ہوا کہ پیپلزپارٹی بھی انقلابی پارٹی بن چکی ہے جبکہ بھٹو صاحب خود ہی 1970ءکے انقلاب کو 1977ءمیں ردانقلاب میں بدل چکے تھے۔ بھٹو صاحب کے وزیرخزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کے مطابق 1970ءمیں پارتی کے جن کارکنوں نے جاگیرداروں کو الیکشن ہرایا وہ 1977ءمیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ یافتہ ہو گئے۔ جیل میں بھٹو صاحب نے بیگم بھٹو سے پوچھا میری پارتی میرے لیے کیا کر رہی ہے۔ بیگم بھٹو نے جواب دیا آپ باہر بالشویک پارٹی نہیں چھوڑ کر آئے ہیں۔

کپتان اب وزیراعظم ہیں، ان کے پاس بھی بالشویک پارٹی نہیں ہے۔ لہٰذا ان کو انقلابی بنانا حماقت ہو گی۔ جیسا کہ سطور بالا میں لکھا گیا۔ ورلڈکپ جیتنے میں کپتان کا ساتھ ان کی ٹیم نے بھرپور طریقے سے دیا تھا۔ اب وہ وزیراعظم بن گئے ہیں ان کے عزم بہت جواں ہیں۔ وہ جب سے وزیراعظم بنے شب روز محنت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور چین سے معاشی اہداف میں کامیابیاں ملی ہیں مگر یہاں یہ سوال غور طلب ہے کیا ان کی ٹیم ان کی طرح نڈر ،ایمان دار اور محنت کرنے والی ہے۔اب تک کی وزراءکی کارکردگی کو دیکھا جائے اور کپتان کے کچھ ایم این اے اور ایم پی اے کو دیکھا جائے الیکشن جیتنے کے فوراً بعد لاہور کے ایم این اے ملک کرامت کھوکھر نے جو کچھ کیا۔ کراچی کے ایم پی اے ڈاکٹر عمران نے شہری کو جس طرح تھپڑ مارا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن کا جیسے تبادلہ کیا۔ اعظم سواتی نے آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے جو کیا۔ زرتاج گل صاحبہ جو الیکشن جیت کر آئی ہیں وہ جو کچھ کر رہی ہیں۔ صرف لاہور ایک علاقے این اے 131سے 15کے قریب خواتین کو ایم این اے اور ایم پی اے بنا دیا گیا ہے۔ وہ سب مل کر بھی ہمایوں اختر خان کے لیے کچھ نہ کر سکی یا جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔ یہ سب باتیں نوشتہ دیوار ہیں۔

عمران خان بحر میں تیراکی کرنا چاہتے ہیں۔ ریگستانوں کی خاک چھان کر وطن عزیز کو سرسبز وشاداب بنانا چاہتے ہیں مگر ان کے ساتھ ان کو گندے پانی کے جوہڑمیں ڈبگیاں لگانے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ یہ چار پانچ مثالیں ان کے قد سے بہت چھوٹی ہیں ان کے عظیم مشن کو بدبودار کر رہی ہیں۔ نئے پاکستان کے نعرے کو آلودہ کر رہی ہیں۔ کیا یہ سب ان کے نوٹس میں ہے۔ وہ وزیراعظم بن کر عوام سے لاتعلق سے ہو گئے ہیں۔ اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں جو قابل تعریف ہے مگر ان کے ساتھی کچھ اور کر رہے ہیں۔ وہ روایتی گندی سیاسی حکمت عملی میں مگن ہیں۔ کپتان جی تحریک انصاف انقلابی جماعت نہیں اس کے ایم این اے ، ایم پی اے نظریاتی اور انقلابی نہیں ہیں۔ نہ ہی آپ کی طرح دلیر ایماندا رہیں یہ سب ہوا کا رخ آپ کی طرف چلتا دیکھ کر آپ کے کارواں میں شامل ہوئے ہیں۔ ےان پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو آپ ناکام ہو جائیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک عظیم المیہ ہوگا۔ کپتان جی ایک نظر ادھر بھی ڈال لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں