خدا حافظ ثاقب نثار صاحب حسنین جمیل

0
91

hassnainjamil@yahoo.com

17جنوری 2019ءکو چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ ان کا شاندار دور اختتام پذیر ہوا۔ وطن عزیز کے پسے ہوئے طبقے کے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے ان کی خدمات ساری زندگی یاد رکھی جائیں گی۔ پاکستان کا آئین چیف جسٹس آف پاکستان کو از خود نوٹس کا جو اختیار دیتا ہے جناب ثاقب نثار نے اپنے اسی آئینی اختیار کا استعمال اس طبقے کے لیے کیا جو 70سال سے ظلم جبر اور زیادتی کا شکار ہو رہا ہے۔ ان کے دور میں جو عدالتی فعالیت دیکھنے میں آئی اس کی مثال ہماری عدالتی تاریخ میں نہیں ملتی۔ الیکشن سے قبل آپ نے سیاسی بنیادوں پر 16لاکھ گیس کنکشن لگانے کے اقدام پر ازخود نوٹس لیا۔ پاکستان سٹیل مل جو ایک قومی اثاثہ ہے جسے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنایا گیا۔ اب جس حالت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کی نج کاری کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ثاقب نثار صاحب نے سٹیل مل کیس کے فیصلے پر نظرثانی بینچ بنایا۔ انہی کے دور میں دوہری شہریت کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ جب شاہد خاقان عباسی کی بہن سعدیہ عباسی اور ہارون اختر خان کو نااہل قرار دیا گیا۔

سابقہ حکومت پنجاب کے میڈیا کو اشتہار جاری کرنے کے معاملے پر بھی ازخود نوٹس لیا۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو 55لاکھ روپے اپنی جیب سے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے دلیکوں کو بھی ڈانٹ ڈیٹ کا سلسلہ جاری رکھا۔ مثلاً ایک کیس میں عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کو 10ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ ایک بار سوشل میڈیا پر جنازے کے گندے پانی سے گزرنے کی تصویر وائرل ہوئی اس پر آپ نے از خود نوٹس لیا جس کے بعد اس شہر مین سڑک تعمیر کی گئی۔ ایک اور مشہور کیس پنجاب کی 56کمپنیوں کا ہے جو اردو محاورے حلوائی کی دوکان دادا جی کی فاتحہ کی تشریف کس طرح قومی خزانے کا منہ ریٹائر اور حاضر سروس بیوروکریٹس کے لیے کھولا گیا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے من پسند افراد کو کیسے نوازا گیا اور دو عہدے دیئے گئے کام ایک جگہ بھی نہیں اور تنخواہیں دونوں شعبوں سے جاری ہوتی تھیں۔ ثاقب نثار صاحب کے حکم کے بعد تمام بیوروکریٹس نے اضافی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرائی جو ایک بے نظیر فیصلہ تھا۔

سالوں سے جیلوں میں پڑی ایک غریب مسیحی عورت آسیہ بی بی کے کیس کا بھی فیصلہ سنایا اور اسے بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا۔ پانامہ کیس کے حوالے سے بطور چیف جسٹس انہوںنے باوقار کردار ادا کیااور جسٹس آصف سعید کھوسہ جو اب چیف جسٹس بن چکے ہیں ان کی سربراہی میں بینچ بنایا جس کے فیصلے کے نتیجے میں نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا اس کے علاوہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے مبینہ جعلی اکاﺅنٹس کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ اس پر ایک اور جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس کی رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری، فریال تالپور اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اس معاملے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اب یہ کیس نیب کے سپرد کر دیا گیا ہے جو دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد ریفرنس دائر کرکے گا۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہماری ریاستی دہشت گردی کی ایک بدترین مثال ہے۔ جس پر ایک نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں کرپشن کیس کا ایک تاریخ ساز فیصلہ اس وقت کے چیئرمین پی ٹی وی عطا الحق قاسمی کو طلب کیا۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی طلب کیے گئے۔18کروڑ روپے کی رقم ان دونوں کو قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔

پاکستان ریلوے ایک اور قومی ادارہ ہے جو تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ اس پر ازخودنوٹس لیا گیا۔ ریلوے کا جب آڈٹ کرایا گیا تو اس میں کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آئیں جو ریلوے انجن بیرون ملک سے پاکستان ریلو نے 46کروڑ میں خریدا وہی انجن انڈین ریلوے نے 24کروڑ میں خریدا۔ اس وقت کے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اس کے ذمہ دار ہیں۔ اب یہ کیس بھی نیب کے پاس جا رہا ہے۔ سطور بالا میں تمام حقائق کو بیان کیا گیا ہے جن پر ثاقب نثار صاحب نے ازخود نوٹس لیے۔ معاملات انجام تک پہنچانے، ان کے کچھ ازخود نوٹس ابھی زیر سماعت ہیں ۔ ان مقدمات کی سربراہی اب موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کریں گے۔ جس میں سب سے اہم مقدمہ نوازشریف کے خلاف پاکپتن اراضی کیس کا ہے۔ جو انہوں نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب الاٹ کی تھی۔ آخ رمیں ثاقب نثار صاحب کے ایک نہایت اہم مقدمے کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ انہوں نے بڑے بڑے میڈیا ہاﺅسز کے کارکنوں کو تین تین ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر تنخواہیں جاری کروائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here