جب نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ن لیگی راہنما کامران مائیکل نے کہا تھا وہ جیل میں خراٹے نہیں ماریں گے (سید بدر سعید )

0
92

یہ چند سال پرانی بات ہے ۔ مسلم لیگ ن کی پنجاب میں حکومت تھی اور پیپلز پارٹی مرکز میں تھی ۔عام انتخابات قریب آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیاست کدہ میں ہیجانی سی کیفیت تھی ۔ افواہ سازی کی فیکٹریاں عروج پر تھیں ۔ حالات ایسے تھے کہ ایک روز میں نے ایک خاتون رکن اسمبلی کے کان میں کہا ، الیکشن کے حوالے سے کیا صورت حال چل رہی ہے تو انہوں نے اتنے ہی سیکرٹ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ، یہ تو آپ نے بتانا ہے ، ہمیں تو یہی سمجھ نہیں آ رہی کہ الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں ؟ ان دنوں لاہور میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا طوطی بولتا تھا اور لاہور میں ان کے مخالف سیاست دان بھی ان کے مقابلے میں ٹکٹ ملنے سے خوف کھاتے تھے ۔ سیاسی بیٹھکیں عروج پر تھیں ۔ ایسی ہی ایک شام پی سی ہوٹل لاہور میں چند وزرا کے ساتھ ایک قدرے خفیہ بیٹھک جمی ۔ بظاہر یہ ڈنر تھا لیکن اندرون خانہ ہم ایسے کسی بڑی خبر کی تلاش میں تھے اور وزرا بھی ہم سے کوئی ایسی بات سننا چاہتے تھے جس سے انہیں تسلی ہو کہ وہ اگلے الیکشن کے لئے فیورٹ ہیں ۔

مسلم لیگ ن کے وزرا فکر مند تھے لیکن کامران مائیکل اٹکیلیاں کر رہے تھے ۔ وہ چونکہ اقلیتی نشست پر مسلسل لائے جا رہے تھے اس لئے انہیں دوسروں کی طرح الیکشن کا ڈر نہیں تھا ۔ کھانا کھاتے ہوئے انہوں نے مجتبی شجاع الرحمن کو کہا ، تینوں ہاشمی دے مقابلے ٹکٹ لے دیاں ؟؟؟ مجتبی شجاع الرحمن نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ، وہ تو غلطی سے ساتھ والے حلقے میں بھی چلا جائے تو نوکریاں بانٹ آتا یے ، اس سے کون جیت سکتا ہے ؟ حالانکہ بعد میں ہاشمی صاحب ہار گئے تھے اور پھر گرفتار بھی ہوئے ۔ اس محفل میں کامران مائیکل ہمیں لطیفے سناتے رہے پھر کہنے لگے: میں اور مجتبی شجاع وکلا تحریک میں گرفتار ہوئے تھے اور اکٹھے جیل میں تھے ۔

مجتبی شجاع کہنے لگے اس کے خراٹوں کی وجہ سے ہم سو نہیں پاتے تھے ۔ کامران مائیکل نے فورا وضاحت دیتے ہوئے کہا : تب میرے ناک کے غدود کا مسئلہ تھا ، اب دوائی لی ہے ، علاج کروایا ہے ، اب خراٹے نہیں لیتا ۔ جس پر میں نے بے ساختہ ہنستے ہوئے کہا: یہ تو دوبارہ جیل خانے پر ہی پتا لگے گا ۔ وہی کامران مائیکل اب پھر گرفتار کر لیے گئے ہیں ۔ اب کی بار انہیں نیب نے گرفتار کیا ہے ۔ پہلے ان کے ساتھ پانچ وزارتوں کے حامل مجتبی شجاع الرحمن تھے ، اب ممکن ہے انہیں سعد رفیق یا نواز شریف کے قریب رکھا جائے ۔ 2013 کے الیکشن سے قبل یہ میری کامران مائیکل سے آخری ملاقات تھی لیکن اس ملاقات میں مجھے اندازہ ہوا کہ کامران مائیکل اپنے اصل سے ہٹ رہے ہیں ۔ نواز شریف کی قربت یا منظور نظری کی وجہ سے شاید ان کا کنکشن مسیحی برادری سے ختم ہو رہا ہے ۔میں نے پہلی بار ان کا موبائل سننے کے لیے ان کے ہمراہ سیکرٹری دیکھا تھا ۔

ہمارے ساتھ بیٹھ کر قہقہے لگانے کے باوجود وہ کچھ الگ الگ سے تھے ۔ عین ممکن ہے یہ ترقی کا شمار ہو لیکن یہ طے ہے کہ نواز شریف یا شہباز شریف کی قربت کے باعث بہت کچھ ان کے ہاتھ میں تھا جس کی وجہ سے ساتھی وزیر ان سے قدرے دبتے نظر آ رہے تھے ۔ اس وقت جیل میں ایک طرف وہ سعد رفیق ہے جس نے راوی کے بقول ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت سکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں ساتھی وزیر کو ذلیل ہوتے دیکھ کر ٹھڈا مار کر اس کمرے کا دروازہ کھولا تھا جس میں نواز شریف بیٹھے تھے اور پھر ریلوے جیسی تباہ وزارت پائی اور دوسری جانب وہ کامران مائیکل ہیں جو آرام پسند ہو چکے ہیں ۔

اصل امتحان اب شروع ہو گا ۔ کامران مائیکل اب جیل میں خراٹے لیتے ہیں یا نہیں یہ اہم نہیں رہا ۔ اہم یہ ہے کہ وہ یہ قید کاٹتے ہیں یا پھر ساتھ نبھاتے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ کامران مائیکل طویل قید نہیں کاٹ پائیں گے ۔ وہ ورکرز سے جڑے سعد رفیق نہیں ہیں ۔ شاید اب وہ جیل میں بے فکرے خراٹے نہ لے پائیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here