عدم تعاون کی فضا تحریر،حسنین جمیل

0
61

hassnainjamil@yahoo.com
دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کو آزاد ہوئے 72برس ہو گئے ہیںمگر آپس کے اختلافات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک آپس میں چار جنگیں 1948،1965ئ،1971ئ، 1999ءلڑ چکے ہیں مگر یہ جنگی جنون ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت نے کشمیر میں جو جبر کی فضا قائم کر رکھی ہے اسے ختم کرے۔ کشمیریوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں جبکہ بھارتی موقف یہ ہے کہ پاکستان کشمیر میں دراندازی بند کرنے اور ان جہادی نظیموں جو بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ہیں نہ صرف ان پر پابندی لگائی جائے بلکہ ان افراد کو گرفتار کرکے بھارت کے حوالے کیا جائے۔ حال ہی میں بھارت میں پلوامہ کا واقعہ ہوا ہے اس سے پہلے اڑی اور پٹھان کوٹ کے واقعات ہو چکے ہیں۔ بھارتی قیادت نے الزامات پاکستان پر لگائے ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری جن کالعدم تنظیموں نے قبول کی ہے۔ بدقسمتی سے ان کے دفاتر ابھی تک پاکستان میں موجود ہیں جبکہ پاکستان نے کلبوشن یایدو کی صورت میں ایک بہت بڑا ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کر دیا ہے جو بھارتی بحریہ کا آفیسر تھا اور پاکستان میں جاسوسی کرنے آیا تھا جسے گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستان مین اس پر مقدمہ چلا الزام ثابت ہو گیا کلبوشن کو سزائے موت سنائی گئی۔ اب یہ کیس عالمی عدالت میں چل رہا ہے۔ جس کا فیصلہ آنے کے بعد پتہ چلے گا۔ پاکستانی عدالت کا فیصلہ کس حد تک درست تھا کیونکہ بھارت کا موقف تھا کہ پاکستانی عدالت میں کلبوشن کو بھارتی وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں آتے ہیں۔ چلیں مان لیا بھارتی منڈی چونکہ بہت بڑی اور وسیع ہے لہٰذا وہاں چونکہ سرمایہ کاری کے بڑے مواقعے ہیں لہٰذا ترقی میں ہم سے آگے ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے غربت کی لکیر بھارت میں بہت گہری ہے۔ ایک اگر وہاں بڑے بڑے کارپوریٹ بزنس ہاﺅس ہیں دوسری طرف غربت کی لکیر میں دھنسے ہوئے کروڑوں افراد بھی ہیں۔سرمایہ داری بظاہر چونکہ دونوں ممالک میں ہے لہٰذا سرمایہ کا کھیل چند خاندانوں نے آپس میں بانٹ رکھا ہے۔ کارکنوں کا استحصال ہے۔ منافع بہت زیادہ جبکہ کارکنوں کی اجرت دونوں ممالک میں کم ہی ہے۔ وہ عالمی ساہوکار کمپنیاں جن کے دھندے دونوں ممالک میں ہیں ۔ پاک بھارت جنگ کی صورت ان کو شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عالمی ساہو کار کمپنیاں اس قدر بااثر ہیں وہ دونوں اطراف کے حکمران طبقات کو مجبور کر سکتی ہیں وہ جنگ نہ کریں۔اس کی سب سے بڑی مثال چند برس قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان آمد تھی جب وہ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف سے ملنے ان کے گھر ان کی نواسی کی شادی میں شرکت کرنے آئے تھے۔ اس ملاقات کے پیچھے ایک ارب پتی بھارتی بزنس مین جندل کا ہاتھ تھا۔ جو سیٹل بزنس سے منسلک ہیں اور مبینہ طور پر کہا جاتا ہے شریف خاندان ان کے ساتھ کسی کاروبار مین ساجھے دار بھی ہیں اگر بھارت میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں تو پاکستان میں بھی مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ہم بھی دہشت گردی کا شکار ہیں۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں ایک دوسرے کی باتوں اور دعوﺅں پر یقین نہیں کرتے۔ مودی اور نوازشریف کی ملاقات حکمران طبقے کی ملاقات تھی ۔ اس میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ لہٰزا برصغیر کے حالات ٹھیک کرنے میں نکام رہی ۔ اب پاکستان میں وزیراعظم عمران خان ہیں جنہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں بھارت سے دوستی کی بات کی جس کا مثبت جواب نہیں آیا۔ کیا پاک بھارت کشیدگی کوئی تیسری طاقت ہی ختم کرا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ تیسری طاقت کونسی ہے۔ امریکہ، چین ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ان چار ممالک کہ بھارت کے ساتھ بھی بہت اچھے تعلقات ہیں یہ ٹھیک ہے کہ ماضی میں بھارت اور چین کی جنگ ہو چکی ہے مگر اب دونوں ممالک اس جنگ کو فراموش کرکے آگے بڑھ چکے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے دورے کر چکے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیا یہ چاروں ملک مل کر پاکستنا اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت بھارت بھیجا ہوا ہے ممکن ہے وہاں سے کوئی مثبت جواب جائے۔ اس سال بھارت میں عام انتخابات بھی ہونے والے ہیں جس میں یہ فیصلہ ہو گا بھارت میں اگلی حکومت کس کی ہو گی۔ بی جے پی کی یا کانگریس کی۔ جس کے بعد دونوں ممالک کی ترجیحات کا فیصلہ ہوگا۔ فی الحال تو ایک جنگی فضا ہی نظر آتی ہے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔

اس پر بھارتی طیاروں کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی نے ایک اور بھونچال برپا کر دیا ہے۔ بھارتی دعوی کے مطابق بالاکوٹ مین قائم ایک جہادی کیمپ پر ہم نے فضائی حملہ کیا ہے جو شہری آبادی نہیں پاکستانی فوج نہیں بلکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ پر کیا گیا ہے۔ جس میں 350دہشت گرد مارے گئے جبکہ پاکستانی موقف یہ ہے کہ بھارتی طیاروں نے ہماری حدود میں داخل ہوئے تھے مگر ہمارے طیاروں نے ان کو بھاگایا۔ ایسے خطرناک جنگی ماحول میں جو لوگ امن، پیار محبت اور شانتی کی بات کرتے ہیں وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ پاک انڈیا پیپلزفورم برائے امن اور جمہوریت نے بیک وقت لاہور اور دہلی میں پریس کانفرنس کی جس میں مطالبہ کیاایک تو امن بحال کیا جائے، بھارت کی طرف سے پاکستان کے آباد علاقوں میں فضائی حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ پلوامہ حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی جنگی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا گیا۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو افسوس ناک قرار دیا گیا مطالبہ کیا گیا دونوں جانب کے کشمیریوں کو غیر مسلح کیا جائے ایک دوسرے سے آزادانہ میل جول کا موقع دیا جائے۔ پاکستان کی طرف سے آئی اے رحمان، انیس ہارون، محمد تحسین جبکہ بھارت کی طرف سے تپن بوس، وجائن ایم جے اور سیدہ حمید نے یہ بیان جاری کیا۔ آخر میں میں وزیراعظم پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے جو قابل تحسین قدم ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here