مصری مترجم ٹائی ٹینک کےمہلک حادثے میں کیسے بچ نکلا تھا؟

برطانیہ کا ایک بڑا بحری جہاز ٹائی ٹینک 15 اپریل 1912 کی صبح ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر سمندر میں غرق ہوگیا تھا۔ یہ ایک بدترین بحری حادثہ تھا ۔اس جہاز پر ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد سوار تھے اور ان میں سے چند ایک ہی زندہ بچ جانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔

ٹائی ٹینک پر سوار افراد کا تعلق مختلف ممالک سے تھا۔ ان میں مصریوں ، لبنانیوں سمیت ایشا ئی اور مشرق اوسط کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی تھے۔ اس حادثے میں بچ جانے والوں میں مصری شہری حمد حسام بوریک بھی شامل تھے۔ وہ اپنے ایک امریکی دوست اور کاروباری شخصیت ہینری ہارپر کی دعوت پر ٹائی ٹینک پر سفر کررہے تھے۔ان کے زندہ بچ جانے کی بہت تھوڑی تفصیل اب تک منظرعام پر آئی ہے حالانکہ وہ اس الم ناک حادثے کے کئی سال بعد تک زندہ رہے تھے.

حال ہی میں ایک مصری صحافیہ یاسمین نے کئی سال کی جدوجہد کے بعد ان کے خاندان تک رسائی حاصل کی ہے اور حمد حسام کے بارے میں کچھ مفید معلومات حاصل کی ہیں۔ انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ انھو ں نے ’’ انسائیکلو پیڈیا ٹائی ٹینکا‘‘ سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن حمد حسام سے متعلق انھیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکا تھا۔

پھر یاسمین نے مصر میں کام کرنے والی ایک ایجنسی تھامس کُک سے رابطہ کیا تھا۔ حمد حسام اس ایجنسی میں مترجم کے طور پر کام کرتے رہے تھے لیکن اس ایجنسی اور امریکی شہری ہینری ہارپر کی کمپنی سے روابط سے انھیں کوئی کارآمد معلومات فراہم نہیں ہوئی تھیں ۔

بالآخر وہ سوشل میڈیا کے ذریعے حمد حسام کے خاندان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔انھوں نے حمد کے 80 سالہ بوڑھے پوتے محمد عمار سے رابطہ کیا اور ان سے ان کے دادا کے بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش کی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے دادا 1864ء میں پیدا ہوئے تھے۔انھیں سیر وسیاحت کا بہت شوق تھا ۔اس کی ایک وجہ تو ان کے کام کی نوعیت تھی ۔وہ یورپی ممالک کی مختلف کمپنیوں کے ساتھ مترجم کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ وہ انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن زبانیں روانی سے بول سکتے تھے۔اسی ملازمت کی بدولت وہ امریکی کاروباری شخصیت ہینری ہارپر کے دوست بنے تھے اور دراصل انھوں نے ہی عمار کے دادا کو ٹائی ٹینک پر سفر کی دعوت دی تھی۔

عمار کہتے ہیں کہ ان کی والدہ اور دادی اماں نے بھی انھیں ان کے دادا کے سفر کے بارے میں بہت کچھ بتایا تھا۔اس خاندان کی بیان کردہ روایت کے مطابق ٹائی ٹینک کے حادثے سے ایک روز حمد حسام نے ایک اور جہاز سے ایک ریڈیو پیغام سنا تھا۔وہ مخالف سمت سے ان کی جانب آرہا تھا۔اس پیغام میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک برفانی تودے کی موجودگی کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔اس کے صرف ایک گھنٹے کے بعد ہی ٹائی ٹینک اس برفانی تودے سے جا ٹکرایا تھا لیکن جہاز کے کپتان نے اس کے باوجود اپنا سفر جاری رکھا تھا۔
جہاز میں بڑا سوراخ

جہاز کے برفانی تودے سے ٹکرانے کے چند گھنٹے کے بعد ہی کپتان نے محسوس کیا کہ جہاز نے ہچکولے کھانے اور ڈوبنا شروع کردیا تھا اور اس میں سوراخ کے ذریعے پانی بھر رہا تھا۔

عمار کے بہ قول جب جہاز ڈوب رہا تھا تو حمد حسام نے دلیری کا مظاہرہ کیا۔انھوں نے دیکھا کہ جہاز کا عملہ تیسرے درجے میں سوار مسافروں پر فائرنگ کررہا تھا۔اس درجے میں زیادہ تر ایشیائی اور عرب سوار تھے۔مرحوم نے اپنے خاندان کے افراد کو بتایا تھا کہ عملہ نے ان مسافروں کی دھکم پیل کی وجہ سے فائرنگ کی تھی تاکہ مغربی مسافروں کو بچائے جانے کے امکانات بڑھ سکیں۔

اس افراتفری کے عالم میں حمد حسام نے اپنے امریکی دوست اور اس کی بیوی کو بچانے کا تہیہ کیا۔وہ ہارپر کی بیوی کو اپنی پشت پر اٹھا کر لے گئے اور پھر ایک کشتی بنائی۔وہ سمندر میں تین روز تک تیرتی رہی تھی تآنکہ انھیں بچا لیا گیا تھا۔

وہ اس حادثے میں معجزانہ طور پر بچ نکلنے کے بعد سیدھے گھر نہیں لوٹ آئے تھے بلکہ تین سال تک لاپتا رہے تھے۔انھوں نے ان برسوں کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں رہے تھے اور کیسے گزر بسر کرتے رہے تھے۔ پھر 1915ء میں ایک روز وہ مصر میں اچانک اپنے گھر آ دھمکے تھے ۔ان کی بیوی فاطمہ الخربوطی انھیں دروازے پر دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی تھی کیونکہ ان کا خاندان تو یہ سجھی بیٹھا تھا کہ وہ ٹائی ٹینک کے ساتھ ڈوب گئے تھے اور اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔

عمار کے بہ قول ان کے دادا گھر واپسی کے بعد ڈپریشن کا شکار ہوگئے تھے۔وہ حادثے میں ڈوب مرنے والوں یا فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے غم میں سخت صدمے سے دوچار تھے اور پھر وہ تنہا اور اداس اداس سے رہنے لگے۔صدمے کی اس کیفیت سے نکلنے کے بعد انھوں نے ایک سیاحتی کمپنی قائم کی تھی۔اس سے انھیں بہت منافع ہوا تھا۔

جب ٹائی ٹینک ڈوبا تو اس وقت ان کی عمر اڑتالیس سال تھی ۔ وہ اپنے خاندان کے افراد کو اپنے اس الم ناک سفر کی کہانی اکثر سناتے رہتے تھے۔انھوں نے ایک سو سال کے لگ بھگ عمر پائی تھی اور اتنی لمبی عمر کے باوجود انھیں کبھی کوئی بیماری لاحق نہیں ہوئی تھی۔انھوں نے ایک صحت مند زندگی گزاری تھی اور بڑے ہی پُرسکون حالات میں وفات پائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں