عظیم ترین شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی آج 150 ویں برسی

0
52

لاہور( رپورٹ : مظہر چودھری) اردو شاعری کو نئے رجحانات سے روشناس کرانے والے اردو ادب کے عظیم ترین شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی 150 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

نقادوں کے مطابق غالب پہلے شاعر تھے جنھوں نے اردو شاعری کو ذہن عطا کیا، غالب سے پہلے کی اردو شاعری دل و نگاہ کے معاملات تک محدود تھی، غالب نے اس میں فکر اور سوالات کی آمیزش کرکے اسے دوآتشہ کردیا۔

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جونہ بادہ خوار ہوتا

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا
……………………….
ان کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی سے وابستگی بھی بڑی شدت نظر آتی ہے. غالب کی شاعری، رومانیت، واقعیت، رندی، تصوف، شوخی و انکساری جیسی متضاد کیفیتوں کا حسین امتزاج ہے۔

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبعیت ادھر نہیں آتی
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
……………………….
غالب کی شاعری میں تشکک پسندی کا پہلو بہت اہم ہے جو بحیثیتِ مجموعی غالب کی شاعری کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ اس کی ایک وجہ غالب کا فلسفیانہ مزاج ہے جبکہ دوسری وجہ غالب کے دور کا مخصوص ماحول ہے

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کر یں گے کہ خدا رکھتے تھے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
………………………….
شاعری اور نثر میں کمال جوہر دکھانے والے غالب قومی معاملات میں بھی گہری بصیرت رکھتے تھے. 1855 میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا تو مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھی ۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں. کہتے ہیں کہ غالب کا یہ نکتہ سر سید احمد خان کے ذہن میں بیٹھ گیا اور ان کی باقی ماندہ زندگی مردہ پرستی کی ترویج و اشاعت کی بجائے مردہ قوم میں زندگی کا تازہ خون دوڑانے کی کوششوں میں صرف ہوئی

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اردو ادب کے عظیم ترین شاعر کی شاعری رہتی دنیا تک اردو ادب میں غالب رہے گی.

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here