32

احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم

اسلام آباد(اے ون نیوز) سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کی مدت میں آٹھویں بار توسیع کے لیے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ دونوں ریفرنسز پر بحث کہاں تک پہنچی، بحث کا وقت ہوتا ہے الف لیلی کی کہانی تو بیان نہیں کرنی ہوتی ، آپ نے ساری قوم اور عدلیہ کو محصور بنا کر رکھا ہوا ہے، یہ ہے آپ کی وکالت، کیوں معاملہ لٹکا رہے ہیں، کیسے بڑے وکیل ہیں آپ۔ اگر آپ وقت پر کام مکمل نہیں کرسکتے تو کیس لیا ہی نا کریں، آپ مقررہ مدت تک اپنی بحث مکمل کریں۔

خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ میں کوئی بڑا وکیل نہیں، کیا کسی نے یہ شکایت کی کہ ہم معاملہ کو لمبا کر رہے ہیں، اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو مقدمہ چھوڑ دیتا ہوں، میرے خیال سے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں معاملہ کھینچ رہا ہوں۔ میرا انرجی لیول آپ جیسا نہیں ہے، عدالت کہتی ہے تو میں بحث چھوڑ دیتا ہوں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا رویہ ہی ایسا ہے، ہر بات پر آپ ناراض ہو کر بائیکاٹ کر دیتے ہیں، آپ کو ہفتہ اتوار کو دلائل دینے پر بھی اعتراض تھا۔ آپ کو پتا ہے میں کیسے کام کرتا ہوں، اب آپ کیس چھوڑنے کی بات کررہے ہیں یہ بھی تاخیری حربہ ہے۔ اپنی عدلیہ کو تباہ نہیں ہونے دوں گا، ہمیں بتا دیں کب تک بحث ختم ہوگی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میں 17 دسمبر تک بحث مکمل کرلوں گا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب ہم نے آپ کی بات مان لی ہے، اب آپ بھی اس مقدمے کو جلد نمٹانے کی کوشش کریں، 17 دسمبر تک دلائل مکمل کرلیں، احتساب عدالت کو فیصلہ لکھنے کے لئے 4 دن دے رہے ہیں۔ احتساب عدالت 24 دسمبر تک فیصلہ سنائے۔

واضح رہے کہ نیب نے سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں نواز شریف، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو سزا ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں