سیالکوٹ میں دو لڑکوں کی آپس میں شادی،ایک سرخ جوڑے میں ملبوس تو دوسرے کے گلے میں مالا تھی

0
226

سیالکوٹ (اے ون نیوز)سیالکوٹ میں دو لڑکوں نے آپس میں شادی کر لی۔ تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کے قصبہ چونڈہ میں شہریوں نے نو عمر لڑکوں کی آپس میں شادی کروادی ۔ نو عمر لڑکوں میں سے ایک لڑکے کو سرخ جوڑے میں ملبوس تو دوسرے کو گلے میں مالا پہنائی گئی۔ یہی نہیں بلکہ شادی کروانے والوں نے دونوں پر نوٹ بھی نچھاور کیے۔

شہریوں نے بعد ازاں دونوں کو گدھے پر بٹھا کر بازاروں میں ان کی شادی کا پرچار بھی کیا۔ بازار میں خریداری کے لیے آئے افراد اس جوڑے اور شادی کی تقریب کو دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ملتان میں بھی لڑکوں کی آپس میں شادی کا ایک شرمناک واقعہ سامنے آیا تھا جہاں آر پی اور ملتان کی طرف سے تشکیل دی جانے والی ایس پی گلگشت شاہد نیاز، ڈی ایس پی جاوید طاہر مجید اور چار ایس ایچ اوز پر مشتمل ٹیم نے تھانہ الپہ کے علاقہ میں ایک کاسمیٹکس بنانے والی فیکرٹری کے فارم ہاؤس پر چھاپہ مار کر ایک لڑکے کی لڑکے سے شادی کی تقریب میں شریک غیر فطری فعل کے عادی درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ہونے والوں میں بعض خواجہ سرا، بعض عیاش مرد، اشتہاری، منشیات فروش اور شہر کے بدنام اوبا ش حضرات سمیت کئی سرکار اہلکار بھی شامل تھے۔جب کہ خوبرو لڑکے مجاہد کو پولیس نے دلہن کے روپ میں اسٹیج پر بیٹھے ہوئے گرفتار کیا۔ اس کا خاوند عامر علی ڈھلوں جو کہ ریڈ سے چند لمحے قبل بہاولپور سے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے فارم ہاؤس کی طرف آنے والے راستے پر کھڑا تھا جو پولیس کو دیکھتے ہی فرار ہو گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد دلہن لکا روپ دھارے مجاہد کا کہنا تھا کہ شادی تو ہماری ایک دن پہلے ہوئی تھی آج تو ہمارا ولیمہ ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ ہمیں ولیمہ منعقد کرنے کی جے ٹی ٹی اہلکار نے بھاری قیمت لے کر اجازت دی تھی اور ہمیں یقین دہانی کروائی کہ وہ ہمیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کرے گا۔ دلہن مجاہد کی یہ بات اس وقت درست ثابت ہوئی جب پولیس نے اسی اجتماع سے پولیس کا وائرلیس سیٹ ہاتھ میں پکڑے کونے میں بیٹھے اہلکار فخرکو دیکھا جو کہ سول ڈریس میں تھا،جس کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ولیمہ کی اس تقریب میں شرکت کے لیے نہ صرف ملتان بلکہ دیگر اضلاع سے بھی درجنوں کی تعداد میں قیمتی گاڑیوں پر سوار افراد پہنچے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here