عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بدلنے کا اصولی فیصلہ کر لیا

0
55

لاہور(اے ون نیوز) معروف صحافی ذوالفقار راحت کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب یعنی کہ وسیم اکرم پلس کا کئی لحاظ سے تجزیہ کیا گیا،عوامی تجزیہ بھی ہوا۔اس کے علاوہ بیوروکریسی،سیاستدانوں اور یہاں تک کہ پی ٹی آئی نے خود بھی تجزیہ کیا جب کہ اداروں اور عمران خان نے بھی کیا۔اور تمام لوگوں نے یہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ عثمان بزدار نہیں چل سکتے۔

اور وزیراعظم عمران خان کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ عثمان بزدار پنجاب نہیں چلا سکتے۔جو باتیں ہم پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے الیکشن سے قبل اور بعد میں کیا کرتے تھے کہ پنجاب کے سی ایم کا کیا میرٹ ہونا چاہئیے، ان تمام باتوں کا عمران خان کو اب اندازہ ہوہ چکا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ پنجاب میں ایسا وزیراعلیٰ چاہئیے جو پنجاب کو لے کر چل سکے، یہاں پر لوگوں کو ساتھ لے کر چلے سکے۔

ذوالفقار راحت کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو اس بات کا بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ پنجاب کے لیے ایسا وزیراعلیٰ چاہئیے جو پارٹی کو مضوط کرے،اب وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ایک نام پر غور ہو رہا ہے جو کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہ چکے ہیں جن کا نام میاں منظور وٹو ہے۔یہاں حیرانی کی بات یہ ہے کہ میاں منظور وٹو تو ایم پی اے بھی نہیں ہیں تو ایک تاندلیانوالہ کے حلقہ میں ایک مسئلہ چل رہا ہے تو وہاں سے میاں منظور وٹو الیکشن جیت سکتے ہیں اور پھر وزیراعلیٰ بن کر تمام کام سنبھال سکتے ہیں۔

میاں منظور وٹو نے پہلے بھی شریف برادران کو ٹف ٹائم دیا تھا۔خیال رہے اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے عثمان بزدار کو تین ماہ کا وقت دیا ہے۔ تین ماہ میں کارگردگی نہ دکھانے کی صورت میں محسن لنگڑیال، اسلم اقبال، اور ہاشم جواں بخت کے ناموں پر اگلے وزیر اعلیٰ کے لیے غور کیا جاسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here