سرجن نے ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن میں گردے کو ٹیومر سمجھ کر نکال دیا

ویلنگٹن(اے ون نیوز) نیوزی لینڈ کی عدالت نے ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کروانے والی خاتون کا گردہ نکالنے پر سرجن پر جرمانہ عائد کردیا۔

سرجری کے دوران گردے نکالنے کی شکایات جنوبی ایشیائی ممالک میں عام ہیں اور گردوں کی خرید و فروخت میں عالمی گروہ کے کارندے بھی شامل ہیں تاہم نیوزی لینڈ میں خاتون کا گردہ نکالے جانے کا آپریشن اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔

مورین پچیچو نامی خاتون سڑک کے حادثے میں شدید زخمی ہونے کے باعث ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ نیورو سرجن نے انہیں آپریشن کا مشورہ دیا تاہم ویلنگٹن اسپتال میں سرجری کے بعد خاتون کو بتایا گیا کہ ان کا گردہ سرجری کے دوران غیر ضروری طور پر نکال لیا گیا ہے۔

متاثرہ خاتون نے عدالت سے رجوع کیا جہاں سرجن نے خاتون کی تمام رپورٹس پیش کیں جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ خاتون کا بایاں گردہ کمر کے نچلے حصے میں ہونے کے بجائے کولہوں کی ہڈی پر موجود تھا اور پیدائشی طور پر نمو نہ پانے کے باعث گردے کی شکل بھی غیر معمولی تھی۔

نیورو سرجن نے آپریشن کے دوران اس گردے کو غیر معمولی ہیئت اور غیر متوقع جگہ پر پائے جانے کے باعث ٹیومر سمجھا اور اسے ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کے دوران ہی جسم سے باہر نکال دیا تاہم اس سے قبل مریضہ کے اہل خانہ سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔

بعد ازاں درست صورت حال کا اداراک ہونے پر سرجن نے متاثرہ خاتون کو تفصیلات سے آگاہ کیا لیکن خاتون نے کسی بھی بات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کے دوران کسی اور عضو کو نکالنے سے قبل مریضہ کو آگاہ کرنے یا اہل خانہ سے اجازت نہ لینے پر معمولی جرمانہ عائد کیا تاہم میڈیکل سائنس میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔

ماہرین نے سرجن کے بروقت فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گردہ رحم مادر میں پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کے سبب نمو نہیں پاسکا تھا اور اس گردے کے فیل ہوجانے یا اس کے کینسر میں تبدیل ہوجانے کے امکانات بھی روشن تھے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں