وہ خاتون جس کی ‘گردوں کی پتھری’ 9 ماہ کا حمل ثابت ہوئی

0
58

لندن(اے ون نیوز)ایک خاتون جب حاملہ ہوتی ہے تو اس کا علم ایک یا دو ماہ بعد ہوجاتا ہے اور بچے کی پیدائش سے دو یا تین مہینے پہلے ارگرد موجود ہر شخص کو ماں کی جسمانی حالت سے یہ معلوم ہوجاتا ہے۔

مگر کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی خاتون ماں بننے والی ہو اور اسے پورے آٹھ یا نو ماہ تک علم ہی نہ ہو بلکہ ہسپتال میں کسی اور مرض کے علاج کے لیے جانے پر بچے کی پیدائش ہوجائے؟

یقیناً ایسا کروڑوں میں سے ایک کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے تاہم امریکا سے تعلق رکھنے والی خاتون ایلیسن اوفرکے ساتھ کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔

کچھ عرصے قبل اس وقت 22 سالہ ایلیسن کو حاملہ ہونے کا احساس اس وقت ہوا جب انہیں زچگی کی تکلیف سہتے ہوئے لگ بھگ 40 گھنٹے گزر چکے تھے، تاہم وہاں انہیں زندگی کا بہت بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب کچھ گھنٹوں میں بیٹے کی پیدائش ہوگئی جس کا انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔

ان کے بقول ‘ میں اس دن شدید مروڑ کی وجہ سے ہسپتال گئی، میں جانتی تھی کہ یہ کوئی سنگین معاملہ ہے’۔

اب 23 سالہ ایلیسن نے ایک انٹرویو میں بتایا ‘ ای آر ڈاکٹر کا خیال تھا کہ مجھے گردوں کی پتھری کی شکایت ہے، مگر جب ڈاکٹر مجھے الٹراساﺅنڈ کے لیے لے کر گئے تو انہوں نے گردوں میں پتھری کی بجائے حمل کو دریافت کیا’۔

زیادہ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ بچے کی پیدائش بس ہونے ہی والی تھی۔

اس وقت ایلیسن درحقیقت موت کے منہ میں پہنچ چکی تھیں ‘میرا بلڈپریشر بہت زیادہ بڑھ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ اگر میں مزید کچھ وقت گھر پر رک کر درد برداشت کرتی تو میری موت ہوجاتی، مگر اب بھی زندگی بچانے کا واحد راستہ آپریشن سے بچے کی پیدائش ہے’۔

حیران کن طور پر 9 ماہ تک اس خاتون کو حاملہ ہونے کی علامات کا سامنا نہیں ہوا اور اس پورے عرصے وہ صحت مند رہی بلکہ کچھ وزن بڑھا بھی تو انہوں نے اپنی غذائی عادات کو اس کی وجہ سمجھا۔

طبی ماہرین کے مطابق کچھ خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اور ان میں حمل کی روایتی علامات سامنے نہیں آتیں اور اس کا انحصار جسم میں ہڈیوں کی ساخت پر ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گردوں میں پتھری کی متعدد علامات زچگی سے ملتی جلتی ہیں جس کے دوران پہلو اور کمر میں شدید درد ہوتا ہے جو لہروں کی شکل میں پھیلتا ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق چونکہ وہ بچہ ایلیسن کی پسلیوں کے نیچے تھا اس لیے بھی اس کی حرکت کا ماں کو اندازہ نہیں ہوسکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here