برطانیہ: کوکین کے استعمال سے ہونے والی اموات میں اضافہ

لندن(اے ون نیوز)برطانیہ کے اعداد و شمار کے ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں منشیات کے استعمال سے ہونے والی اموات میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر کوکین، فینٹانل اور میفیڈرون نامی منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے، جو چین سے غیرقانونی طور پر ڈارک ویب کے ذریعے درآمد کی جاتی ہیں۔
منشیات کے استعمال کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے چاہییں۔گذشتہ برس کوکین سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہوا، جب کہ ہیروئن اور مارفین کے استعمال کنندگان کی اموات میں کمی دیکھنے میں آئی۔
کل ملا کر 2017 میں انگلینڈ اور ویلز میں 3756 لوگ غیرقانونی منشیات کے استعمال سے موت کے منہ میں پہنچے۔ادارے کے مطابق ان میں سے دو تہائی اموات منشیات کے غلط استعمال کے باعث ہوئیں۔
برطانیہ میں منشیات کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد دس لاکھ میں 66 ہو گئی ہے جو یورپی یونین سے تین گنا زیادہ ہے۔سب سے زیادہ خطرناک نشہ آور دوا فینٹانل ہے، جب کہ دوسرے نمبر پر کوکین ہے، جس کے باعث 2017 میں 432 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس سال کے اوائل میں سکیورٹی منسٹر بین والس نے کہا تھا کہ برطانیہ ‘تیزی سے یورپ میں کوکین کا سب سے بڑا صارف بنتا جا رہا ہے۔’تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق انگلینڈ کا شمالی مشرقی حصہ زیادہ متاثر ہوا ہے، اور وہاں منشیات کے ہاتھوں مرنے والوں کی شرح 83 فی دس لاکھ ہے، جب کہ لندن میں یہ شرح سب سے کم ہے۔
ٹرانسفارم ڈرگ پالیسی فاؤنڈیشن نامی ادارے کے مارکن پاول نے کہا کہ ’حکومت کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں بچی۔ وہی متاثرہ لوگوں کے مرنے کے ذمہ دار ہیں۔‘انھوں نے سیاست دانوں پر الزام لگایا کہ وہ ایسی قانون سازی کی راہ مسدود کر دیتے ہیں، یا اس کے لیے رقوم فراہم نہیں کرتے، جو دوسروں ملکوں میں زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں