جاپان کی میڈیکل یونیورسٹی نے انٹری ٹیسٹ میں خواتین کے نمبر کم کرنے پر معافی مانگ لی

ٹوکیو(اے ون نیوز) جاپان میں صفِ اوّل کی میڈیکل یونیورسٹی ’’ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی‘‘ نے انٹری ٹیسٹوں میں خواتین امیدواروں کے نمبر کم کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے پریس کانفرنس کے ذریعے معافی مانگ لی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے 2006 سے ہر سال انٹری ٹیسٹ میں خواتین امیدواروں کے نمبر کم کرنے کا اعتراف کرلیا ہے تاکہ کم سے کم لڑکیاں ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کرسکیں۔

زیادہ تر خواتین امیدوار تعلیم مکمل ہونے کے بعد ازدواجی زندگی کو فوقیت دیتی ہیں اور ملازمت نہیں کرتیں۔ اس طرح ڈاکٹروں کے بحران کے شکار ملک جاپان میں ایک سیٹ ضائع ہوجاتی ہے۔ اسی لیے مرد امیدواروں کو کامیاب کرادیا جاتا ہے۔

ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی کے انٹری ٹیسٹ میں خواتین کے نمبر کم کرنے کا معاملہ ایک مقامی اخبار میں اُٹھایا گیا جب انٹری ٹیسٹ میں حیران کن طور پر 141 مرد امیدواروں کے ساتھ صرف 30 خاتون امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

مقامی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد تحقیقاتی کمیٹی نے تمام تر ثبوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ خواتین امیدواروں کے نمبروں میں جان بوجھ کر کمی کی گئی ہے جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے معافی مانگ لی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں