آﺅ سوازی لینڈ(ایسو تینی) چلیں

سوازی لینڈ(رپورٹ،ندیم شبیر)

سوازی لینڈ جنوبی افریقہ میں واقع ایک خوبصورت ملک ہے۔ اور سیاحوں کے لئے پر کشش جگہ بھی ہے اس ملک کی سرحدیں جنوبی افریقہ اور موزمبیق سے ملتی ہیں اس سے کوئی سمندر نہیں لگتا اس لیے یہ ایک زمین بند ملک ہے۔سوازی لینڈ کبھی برطانیہ کے زیراقتدار تھا۔ یہاں کی معیشت چینی پر ٹکی ہے۔ اس کے بعد کھٹے پھل، کپاس، چاول اور مکا پیدا ہوتی ہے۔ یہاں پرمویشی پروری اہم کام ہے۔ دارالحکومت کا نام امبابانی ہے ۔سوازی لینڈ کا سب سے بڑا شہر بھی یہی ہے۔زبان سوازی ہے،جبکہ دفتری زبان انگلش ہے،سوازی لینڈ کا کل رقبہ 17364کلو میٹر ہے ۔

مسواتی سوم بادشاہ آج کل حکومت کر رہے ہیں۔بادشاہ کی پندرہ بیویوں میں سے 23 بچے ہیں اور اس کا شاہی محل دارالحکومت سوازیہ لوبامبا میں کئی میل پر پھیلا ہوا ہے۔مسواتی نے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی اور سنہ 1986ءمیں ان کے والد کی وفات کے بعد انہیں مملکت کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ اس وقت مسواتی کی عمر محض چودہ سال تھی۔

سوازی لینڈ میںمعدنیات کے ذخائر بھی ہیں۔ ایبیسٹوز، کوئلہ اور لوہا نکلتا ہے۔خواندگی کی شرح81فیصد ہے۔ لوگوں کا مذہب عیسائی اور قبائلی ہے، یہاں کے عوام کی فی کس آمدنی 970ڈالر فی کس ہے،سوازی لینڈ 6ستمبر1968کو آزاد ہوا تھا۔سوازی لینڈ دولت مشترکہ کے رکن ممالک میں بھی شامل ہے۔


اپریل 2018میں سوازی لینڈ کے بادشاہ مسواتی 3نے اپنے ملک کا نام تبدیل کر دیا ہے بادشاہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کا نام سوازی لینڈ ، سوئٹزرلینڈ کے نام سے بہت مشابہت رکھتا ہے اور لوگ اکثر ہمارے ملک کو بھی سوئٹزرلینڈ کہہ جاتے ہیں، اس لیے اب ملک کا نام تبدیل کرکے ’ایسوتینی‘ (eSwatini)رکھ دیا گیا ہے۔ سوازی لینڈنے 50سال قبل تاجِ برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی لیکن اب تک ملک کا نام وہی چلا آ رہا تھا۔

بادشاہ نے ملک کے نام کی تبدیلی کی ایک اور منطق بھی بیان کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لفظ ’سوازی لینڈ‘ سوازی اور انگریزی زبانوں کا مرکب ہے، چنانچہ ملک کے نام میں انگریزی کا لفظ شامل ہونے پر اکثر شہریوں میں بھی غصہ پایا جاتا ہے کہ آزادی کے پچاس سال بعد بھی انگریزی لفظ ان کے ملک کے نام کا حصہ ہے۔ ان لوگوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی نام میں تبدیلی کرنا لازمی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں