18

کمبھ میلے میں مخنث سادھو کی سربراہی میں عبادات

ممبئی(اے ون نیوز)ہندو مذہب کے اہم ترین اور مقدس ترین مذہبی میلوں میں شمار ہونے والے سب سے بڑے میلے ’کمبھ میلے‘ کی رسومات میں پہلی بار مخنث سادھوؤں کی سربراہی میں لوگوں نے عبادات کیں۔خیال رہے کہ کمبھ میلہ ہر چند سالوں بعد ہندوؤں کے لیے مقدس اہمیت رکھنے والے دریائے گنگا کنارے آباد 4 مختلف شہروں میں منعقد ہوتا ہے۔

اسے ہندوؤں کے سب سے بڑے میلے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جب کہ اسے دنیا کے چند بڑے انسانی میلوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔اس میلے میں ہندو افراد 13 مختلف تنظیموں یا قافلوں کی صورت میں شرکت کرتے ہیں، تاہم اگر کوئی ان تنظیموں کے علاوہ بھی اس مذہبی میلے میں شرکت کرنا چاہے تو اسے نہیں روکا جاتا۔

اس میلے میں مرد و خواتین کی 13 مختلف تنظیموں کو ’اکھاڑا‘ کا نام دیا جاتا ہے، تاہم اب پہلی بار اس میلے میں 14 ویں اکھاڑے کے ذریعے بھی لوگ شامل ہوئے اور اس اکھاڑے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی سربراہی کرنے والے سادھو یا مذہبی پیشوا مخنث افراد تھے۔

ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مخنث سادھوؤں اور مذہبی پیشواؤں کی سربراہی میں ’کنر اکھاڑا‘ کے ذریعے درجنوں لوگ ریاست اتر پردیش کے شہر الہ آباد سے کمبھ میلے کی رسومات میں شریک ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ کمبھ میلے کا باقاعدہ آغاز 15 جنوری کو ہوگا اور یہ رواں برس 4 مارچ تک جاری رہے گا، تاہم اس میلے کے آغاز سے قبل ہونے والی مذہبی رسومات میں مخنث سادھوؤں کی سربراہی میں لوگوں نے عبادات کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لوگوں نے مخنث سادھوؤں کا جوش سے خیر مقدم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے ارد گرد بھیڑ جمع ہوگئی۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ’کنر اکھاڑا‘ کے سربراہ اور مخنث سادھو لکشمی نارائن ترپاتھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جدوجہد سے کئی کامیابیاں حاصل کیں اور اب سماجی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے اور کمبھ میلے میں شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

کنر اکھاڑا کے ایک اور مخنث رہنما کا کہنا تھا کہ ہندو مذہبی روایات میں مخنث افراد اور مذہبی پیشواؤں کی تاریخ ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب مرد و خواتین کے 13 اکھاڑے موجود ہیں تو مخنث افراد کا اکھاڑا کیوں نہیں ہو سکتا۔خیال رہے کہ مخنث افراد کے اس اکھاڑے پر ستمبر 2018 میں آل انڈیا اکھاڑا کونسل یا اکھل بھارتیا اکھاڑا پریشد (اے بی اے پی)نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تیسری جنس کے افراد کو رکنیت نہیں دے سکتے۔

ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اے بی اے پی نے اگرچہ مخنث افراد کو رکنیت دینے سے انکار کردیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مخںث افراد کمبھ میلے میں شرکت کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں