21

ہم مہاجرین کے بارے میں بہت سنتے ہیں لیکن مہاجرین کی نہیں سنتے: ملالہ یوسف زئی

نیو یارک(اے ون نیوز)ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ ہم مہاجرین کے بارے میں تو بہت کچھ سنتے ہیں لیکن مہاجرین کی نہیں سنتے۔اپنی کتاب “We are Displaced” کے سلسلے میں امریکی ٹی وی شو کے اینکر ٹریور نوا (Trevor Noah )کو انٹرویو دیتے ہوئے ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ دنیا کو مہاجرین کے تجربات کے بارے میں حساس رویہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ملالہ نے کہا کہ کہا کہ اپنی کتاب کے ذریعے وہ مہاجرین کی کہانی کو حقیقی رنگ میں دنیا تک پہنچانا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ خود اس نوعیت کے تجربے سے گزرنے کی وجہ سے دنیا بھر کے مہاجرین کے احساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں۔ملالہ کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے انہوں نے دنیا میں جہاں بھی پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کیا وہاں انہیں مثالی ہمت اور جذبہ نظر آیا۔

واضح رہے کہ ملالہ پر 9 اکتوبر 2012 کو مینگورہ میں اسکول سے گھر جاتے ہوئے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ملالہ کو زخمی حالت میں پہلے پشاور لے جایا گیا اور بعد میں راولپنڈی کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔15 اکتوبر 2012 کو حالت میں بہتری آنے کے بعد ملالہ کو علاج کے لیے برطانیہ منتقل کردیا گیا۔

12 جولائی 2013 کو ملالہ نے اپنی سالگرہ کے دن اقوام متحدہ میں خطاب کیا۔ 2014 میں صرف 17 سال کی عمر میں ملالہ نے امن کا نوبیل ایوارڈ حاصل کیا۔اس کے علاوہ ملالہ یوسف زئی مسلسل 3 سال دنیا کی بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل رہیں جبکہ ان کو کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی دی جاچکی ہے۔

ملالہ کو عالمی سطح پر 40 سے زائد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ملالہ یوسف زئی اس وقت برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور خواتین کے حقوق اور تعلیم کے لیے ہمیشہ اپنی آواز بلند رکھتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں