مانچسٹر میں اردو کانفرنس۔جشنِ ڈاکٹر امان اللہ خان اورعالمی محفل مشاعرہ

مانچسٹر(رپورٹ ۔شکیل قمر )کاروانِ ادب برطانیہ اور اردو ٹائمز لندن کے زیرِ اہتمام ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اُردو کانفرنس اور عالمی محفلِ مشاعرہ کا انعقاد مانچسٹر اور لندن میں کیا گیا 28،اکتوبر کو شام پانچ بجے مانچسٹر میں پاکستانی کمیونٹی سنٹر لانگ سائٹ میں اس شاندار اُردو کانفرنس اور عالمی محل مشاعرہکا انعقاد ہوا جس کے پہلے حصے میں جشنِ ڈاکٹر امان اللہ خان کی تقریب منعقد ہوئی ،ڈاکٹر امان اللہ خان پاکستان اور پنجابی زبان وادب سے بے پناہ محبت کرنے والے انسان ہیں جوکہ امریکہ مین مقیم ہیں اور وہاں کینسر کا ایک ہسپتال چلا رہے ہیں ،ڈاکٹر امان اللہ خان بیس سال کی عمر میں امریکہ چلے گئے تھے اور اب بھی وہاں ہی رہتے ہیں ظاہر ہے دوسرے اوورسیز پاکستانیوں کی طرح ڈاکٹر امان اللہ خان کو بھی اپنے وطن پاکستان سے بہت پیار ہے ڈاکٹر صاحب نے وطن سے اپنے پیار کا اظہار اس طرح بھی کیا کہ اُنہوں نے ڈاکٹری کےپیشے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے لئے بہت خدمات سرانجام دیں ہیں ،ڈاکٹر صاحب نے زبان و ادب کے لئے جو کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے،اُنہوں نے پنجابی زبان و ادب پر خصوصی کام کیا ہے اُن کی زیادہ تر شاعری اور تصانیف بھی پنجابی زبان میں ہیں ،اُنکی پنجابی زبان و ادب کے لئے گراں قدر خدمات کے پیش نظر کاروانِ ادب اور اردو ٹائمز نے اُن کے لئے جشنِ ڈاکٹر امان اللہ خان کااہتمام کیا ،

اس جشن میں شرکت کے لئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز کی ڈائریکٹر جنرل اور ممتاز شاعرہ ڈاکٹر صغریٰ صدف خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائی تھیں ،پاکستان سے ہی ممتاز شاعر پروفیسر بہاول شیر ،ممتاز شاعر ڈاکٹر آفتاب مضطر،پروفیسر محمود پاشا،اورلندن سے ممتاز شاعر احسان شاہد ،ممتاز شاعرہ اور ’’ دھنک اخبار ‘‘ کی ایڈیٹر سیدہ کوثر منور اور ’’اخبار نوائے جنگ‘‘کے مینیجگ ایڈیٹر آصف سلیم مٹھا بھی جشنِ ڈاکٹر امان اللہ خان میں شرکت کیلئے تشریف لائے تھے ،طاہر چودھری اور صابر رضا کی اُردو کانفرنس کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ ہر سال اس کانفرنس میں شرکت کے لئے ممتازدانش ور اور ٹی وی اینکر سہیل وڑائچ پاکستان سے خصوصی طور پر تشریف لاتے ہیں ،

اس سال بھی جشنِ ڈاکٹر امان اللہ خان کی صدارت سہیل وڑائچ نے کی جبکہ دیگر مہمانانِ خصوصی بھی اسٹیج پر براجمان دکھائی دئیے ،کانفرنس کے پہلے حصے میں مقررین نے ڈاکٹر امان اللہ خان کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالی اور اُن کے پنجابی زبان و ادب کے حوالے سے کام کا تذکرہ کیا جس میں ڈاکٹر اما ن اللہ خان کی تصانیف اور شاعری کا ذکر خاص طور پر شامل تھا ، ڈاکٹر صاحب کی شخصیت فن اور زبان و ادب پرجن مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اُن میں شیڈو ہوم منسٹر محمد افضل خان ،پنجابی زبان کے ممتاز دانش ور اور شاعر ڈاکٹر جاوید کنول،سپیکر اخبار کے ایڈیٹر محبوب الہی بٹ ،پروفیسر بہاول شیر ،پروفیسر محمود پاشا ،ڈاکٹر صغریٰ صدف اور سہیل وڑائچ شامل تھے ،آخر میں ڈاکٹرامان اللہ خان نے اپنے پنجابی کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا ،

اُردو کانفرنس کے اس پہلے حصے میں اُردو ٹائمز کے ایڈیٹر طاہر چودھری نےحاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے انعقاد سے لیکر تکنیکی اور مالیاتی مسائل کا کھل کر ذکر کیا جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض ممتاز شاعر صابر رضا نے سر انجام دیئے ،تقریب کا آغاز ڈاکٹر محمد یونس پرواز نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا اور آیاتِ قرآنی کا ترجمہ بھی پیش کیا ،اُن کے بعد شارق خان نے نعتِ رسول مقبولﷺ پیش کی ،لندن سے ہی آئے ہوئے ڈاکٹر افتی نے اپنے مخصوص انداز میں پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا ،جشنِ ڈاکٹرامان اللہ خان کے اختتام پر تمام خاص مہمانوں اور کرم فرماؤں کو اعزازی شیلڈ یں ہیش کی گئیں ،تقریب کےدوران انتہائی محبت اور خلوص سے ڈاکٹر محمد یونس پرواز تمام مہمانوں کی خاطر تواضح چائے اور بسکٹوں سے کرتے رہے ،

اُردو کانفرنس کےدوسرے حصے میں عالمی محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ،عالمی محفلِ مشاعرہ کی صدارت ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کی جبکہ خاص مہمانوں میںڈاکٹر امان اللہ خان ،پروفیسر بہاول شیر،پروفیسر محمود پاشا ،چودھری محمد انور،نغمانہ کنول شیخ،عبدالغفورکشفی،چودھری سکندر نواز،شارق خان اور ممتاز شاعر آغا نثار بھی شامل تھے جو کہ اسٹیج پر ہی موجود تھے ،عالمی محفلِ مشاعرہ کی نظامت کے فرائض ممتاز شاعر صا بر رضا اور ممتاز شاعر انور جمال فاروقی نے سر انجام دیئے ،صابر رضا نے تمام مہمان شاعروں کا تعارف کرواتے ہوئے اُن سے اپنی خاص عقیدت کا اظہار کیا اور اپنے مراسم کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کے شایانِ شان تعارف کروایا ،اُنہوں نے محفلِ مشاعرہ کا آغاز اپنے چند اشعار سے کیا ،اس عالمی محفل، مشاعرہ میں جن دیگر شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا اُن میں ضمیر صاحب، محمد عالم پنوار،مقدسہ بانو ، ڈاکٹر ناہید کیانی،چودھری سکندنوازر،مخدوم امجد شاہ، انور جمال فاروقی ،سیدہ کوثر منور،نغمانہ کنول شیخ ،ڈاکٹر جاوید کنول ،چودھری محمد انور،پروفیسر بہاول شیر ، پروفیسر محمود پاشا،احسان شاہد، شکیل قمر ، آغا نثار،شارق خان ،ڈاکٹر آفتاب مضطر،ڈاکٹر امان اللہ خاناور ڈاکٹر صغرایٰ صدف کے نام شامل تھے ،

تقریب کے آخر میں قریبی پاکستانی ریسٹورنٹ میں تمام مہمانوں کے لئے عشائیہ کاپُرتکلف اہتمام کیا گیا تھا ،اُردو کانفرنس کےدوسرے روز لندن میں ہاؤس آف کامنز کے کمیٹی روم میں جشنِ ڈاکٹر امان اللہ خان اور عالمی محفلِ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا ،جس کی صدارت شیڈو ہوم منسٹر محمد افضل خان نے کی اور دیگر مہمانوں میں سہیل وڑائچ ، ڈاکٹر امان اللہ خان ،ڈاکٹر صغریٰ صدف،ڈاکٹر آفتاب مضطر،پروفیسر بہاول شیرپروفیسر محمود پاشا ،عبدالغفور کشفی ،احسان شاہد،چودھری سکندر،اور سید کاشف سجاد شامل تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں