برطانیہ کی سب سے کم عمر خاتون دہشت گرد داعش میں کیسے شامل ہوئی؟

لندن(اے ون نیوز)برطانیہ میں چند ہفتے قبل عدالت نے 18 سالہ شہری صفاء بولار کو عمر قید (کم سے کم 13 برس) کی سزا سنائی تو وہ ملک میں سزا کا سامنا کرنے والی کم عمر ترین برطانوی خاتون بن گئی۔ صفاء پر برطانوی سرزمین پر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

برطانیہ کے شہر کووینٹری سے تعلق رکھنے والی صفا کی عمر جب 15 برس تھی تو داعش تنظیم کے ایک جنگجو نوید حسین نے انٹرنیٹ کے ذریعے اس سے متعارف ہو کر صفا کو ورغلانا شروع کیا اور پھر آن لائن رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔

صفاء شام کا سفر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی تا کہ وہاں پہنچ کر نوید حسین سے شادی کر سکے تاہم برطانوی پولیس نے اس کی کوشش ناکام بنا دیا۔ ادھر نوید حسین شامی اراضی میں ڈرون طیارے کے ایک حملے میں مارا گیا۔

صفاء بولار اپنی 44 سالہ ماں مینا ڈِچ اور 22 سالہ بڑی بہن رِزلین بولار کے ساتھ مل کر برطانوی میوزیم کو حملے کا نشانہ بنانا چاہتی تھی۔

صفاء اور اس کی بہن رزلین نے لندن کے جنوب میں دریائے ٹیمز کے نزدیک واقع اپارٹمنٹ میں پرورش پائی۔ ان کے مراکشی اور فرانسیسی نژاد والدین میں اُس وقت علاحدگی ہو گئی جب صفاء چھ برس کی تھی۔

صفاء نے اپنے والد کے ساتھ اچھا تعلق برقرار رکھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران صفا نے بتایا کہ اس کی والدہ پُرتشدد ذہنیت کی حامل انسان ہے جو اس سے ناروا برتاؤ کرتی تھی۔ صفاء کے مطابق اس کی ماں مینا اکثر گھر میں برتنوں کو پھینکا کرتی اور تُھوکا کرتی تھی اور پھر اگلے روز اس طرح سے پیش آتی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

صفاء جب فون پر اپنے اسکول کے لڑکوں کے ساتھ گفتگو کرتی تھی تو اُسے ماں کی طرف سے شدید ردّعمل کا سامنا کرنا پڑتا اور اُس کا فون بھی ضبط کر لیا جاتا۔

صفاء کی عمر 14 برس تھی تو اُسے یہ جان کر شدید دھچکا لگا کہ وہ ٹائپ وَن ذیابیطس کی مریض بن چکی ہے اور اسے بقیہ پوری زندگی انسولین کے انجکشن کی ضرورت ہو گی۔ اس مرض کی تشخیص کے بعد ایک ماہ تک صفاء کی والدہ نے بیٹی کا خوب خیال رکھا لیکن اس کے بعد پھر سے پرانی روش اپنا لی۔ صفاء کئی مرتبہ ہسپتال میں داخل ہوئی۔

رمضان کا مہینہ آیا تو صفاء کی والدہ مینا نے اپنی بیٹی کو روزے رکھنے پر مجبور کیا جب کہ دین میں ذیابیطس کی شدت کے حامل مریضوں کو رخصت دی گئی ہے۔ اس صورت حال سے تنگ آ کر صفاء 29 اگست 2014ء کو گھر چھوڑ کر بھاگ گئی۔ تاہم گھر کے نزدیک واقع ایک پارک سے مل جانے کے بعد اسے پھر سے گھر لوٹا دیا گیا۔

عدالت نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں صفاء کو عمر قید کی سزا سنائی تو اُس کی جانب سے کسی قسم کا ردّ عمل سامنے نہیں آیا۔ عدالت کی گزشتہ سماعت میں صفاء کی بہن رزلین اور والدہ مینا نے برطانوی میوزیم پر حملے کی منصوبہ بندی میں شریک ہونے کا اقرار کیا تھا۔ صفاء کو برطانوی پولیس نے گزشتہ برس اپریل میں گرفتار کیا تھا۔
سال 2014ء میں رزلین نے شام فرار ہونے کی کوشش کی تھی تاہم اُس کی بہن صفاء اور اُن کے ایک بھائی کے درمیان بات چیت کے بعد پولیس نے اسے آگے جانے سے روک لیا۔ رزلین کو شام پہنچنے سے قبل استنبول سے واپس لایا گیا۔

نومبر 2015ء میں پیرس میں ہونے والے حملوں کا صفاء بولار پر بڑا اثر مرتب ہوا۔ ان حملوں کے بعد اس نے بطور مسلمان خاتون داعش تنظیم کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کا سوچا۔ بعد ازاں صفاء کا انٹرنیٹ کے ذریعے شام کے شہر رقّہ میں مقیم ایک عورت سے رابطہ ہو گیا۔ وہ انگریزی زبان میں داعش کے لیے دعوت دینے والی اولین اور نمایاں خاتون تھی۔

اسی خاتون کے ذریعے صفاء ایک پاکستانی نژاد برطانوی مرد نوید حسین سے متعارف ہوئی جو اُس سے دوگنی عمر کا تھا۔ نوید جون 2015ء میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ شام چلا گیا تھا۔

صفاء اور نوید کے درمیان تعلق خاص شکل اختیار کرنے لگا جس کا اقرار کرتے ہوئے اُس نے عدالت کو بتایا کہ “نوید مجھ پر بہت زیادہ توجہ دیتا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے مردوں کی جانب سے اس حد تک توجہ ملی”۔

اگست 2016ء میں صفاء لندن میں اپنی شورش زدہ زندگی سے دُور مراکش میں اپنے دادا کے گھر میں موجود تھی۔ اس دوران انٹرنیٹ پر گفتگو میں نوید نے صفاء سے اظہار محبت کر دیا۔

دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ شام میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے اور وہاں دشمن کے سامنے مل کر خود کو دھماکے سے اڑا دیں گے۔

اس سے قبل ایک ایپلی کیشن کے ذریعے خفیہ “محفل” میں صفاء اور نوید دو گواہوں کی موجودگی میں ایک داعشی شیخ کے ہاتھوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

صفاء نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ اس نے اور اس کی بہن نے 2016ء میں شام فرار ہونے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔ نوید حسین سے شادی کا فیصلہ کرنے کے وقت دونوں بہنوں نے برطانیہ سے کوچ کر جانے پر اتفاق کیا۔ تاہم دونوں بہنیں برطانوی سکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی میں تھیں۔ صفاء اپنی چھٹیاں گزار کر مراکش سے برطانیہ پہنچی تو پولیس نے اس کا موبائل اور پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس سے پوچھ گچھ کی۔ اس دوران صفاء نے نوید حسین سے بات چیت اور شام جانے کے منصوبے کا اعتراف تو کیا تاہم نوید سے شادی کر لینے کا انکشاف نہیں کیا۔

صفاء کی وکیل کے مطابق اُس کی مؤکلہ کو انتہا پسندی میں اُس وقت جھونکا گیا جب کہ اُس کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں