پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کےاجلاس میں 164 اراکین موجود تھے، شاہ محمود کا دعویٰ

اسلام آباد(اے ون نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ آج پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 164 اراکین موجود تھے اور اراکین کی تعداد 180 سے 186 تک پہنچنے کا امکان ہے۔

تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تحریک انصاف، ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں مقابلہ تھا لیکن پنجاب کے عوام نے پیپلزپارٹی کو مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے پیپلزپارٹی کو 6 قومی اور 6 صوبائی اسمبلی کی نشستیں ملیں، اگر ہم درست فیصلہ کر لیتے تو مظفر گڑھ سے بھی تین نشستیں ہمیں مل جاتیں لیکن الیکشن سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف پاپولر ووٹ میں ابھر کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی کے نمبر گیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ واضح اکثریت کیلئے پنجاب میں 149 ووٹ درکار ہیں لیکن ہم گولڈن نمبر سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 164 اراکین شامل تھے، بہت سے ارکان آج کے اجلاس میں نہیں آسکے لیکن امید ہے اسمبلی میں ووٹنگ والے روز اراکین کی تعداد 180 سے 186 تک جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 162 ارکان صوبائی اسمبلی شریک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1970 کے الیکشن نے پاکستان کی سیاست کو عوامی رنگ دیا جب کہ 2018 کے الیکشن میں ووٹر نے واضح پیغام دیا کہ ہمیں روایتی سیاست نہیں گڈ گورننس چاہیے۔

نائب چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین کو بتایا ہے کہ ہمیں کیا چیلنج ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ جسے بھی وہ نامزد کریں گے اس کی حمایت کرنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے تحریک انصاف کی امید لگی ہے آہستہ آہستہ روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ مستحکم ہو رہی ہے، ہم نے ایک منشور دیا ہے کوشش ہے کہ اس پر دیانتداری سے عمل پیرا ہوں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کوشش ہے اپنے 100 دن کے پلان پر عملدرآمد کریں، پاکستان کے لیے تحریک پاکستان والا جذبہ درکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں