طالبان کی ’میسی جونیئر‘ کو قتل یا اغوا کی دھمکی

کابل(اے ون نیوز) پلاسٹک بیگ سے بنی لیونل میسی کی شرٹ پہن کر دنیا بھر میں مشہور ہونے والے افغانی بچے کی جان کو خطرات لاحق ہیں اور طالبان کی جانب سے انہیں جان سے مارنے یا اغوا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔دو سال قبل میسی کے 7 سالہ مداح مرتضیٰ احمدی کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر پوری دنیا میں مقبول ہوئی تھی جس میں انھیں پلاسٹک کی تھیلی کے اوپر اپنے آئیڈیل میسی کے نام اور نمبر کو تحریر کر کے جرسی کے طورپر پہنے دکھایا گیا تھا اور یہ تصویر کابل کے قریبی شہر غزنی میں رہائش پذیر ان کے والدین کی غربت کی بھرپور عکاسی بھی کر رہا تھا۔

ان کے بڑے بھائی 15 سالہ ہمایوں نے نیلے اور سفید دھاریوں والے پلاسٹک بیگ سے شرٹ بنا کر دی اور اس پر مارکر سے میسی کا نام لکھ کر جنوری 2016 کے وسط میں تصویر فیس بک پر پوسٹ کر دی تھی۔اس خبر کا لیونل میسی نے بذات خود نوٹس لیا تھا اور انہیں اپنے دستخط کی حامل شرٹ بھیج کر نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا تاہم عالمی سطح پر شہرت کے باعث اس بچے کو دھمکیاں موصول ہوئیں اور اس خاندان کو افغانستان سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان منتقل ہونا پڑا تھا۔

تاہم کچھ عرصے بعد ہی یہ خاندان واپس افغانستان چلا گیا لیکن اب انہیں پھر سے دھمکیاں ملی ہیں جس کے بعد مرتضیٰ اور ان کے اہلخانہ اپنے آبائی علاقے کابل سے فرار ہو گئے ہیں اور وہاں شدید ٹھنڈ میں انتہائی کسمپرسی سے زندگی گزار رہے ہیں۔مرتضیٰ کی والدہ شفیقہ احمدی نے کہا کہ ان کا بیٹا اب اسکول جانے سے قاصر ہے اور وہ کابل میں ایک ایسے کمرے میں رہنے پر مجبور ہے جہاں حد سے زیادہ ٹھنڈ ہے جس کی وجہ سے مرتضیٰ بیمار پڑ گیا ہے۔

ان کی والدہ نے کہا کہ اب سوچتی ہوں کہ کاش میرا بیٹا اتنا مشہور ہی نہ ہوا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ کی مشہوری نے ہم سب کے لیے بہت مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ ہم گزشتہ دو سال سے اسے اسکول بھیجنے سے قاصر ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ کاش ایسا کچھ ہوا ہی نہ ہوتا۔شدت پسندوں نے میسی کے فین کو اغوا کر کے تاوان لینے کی دھمکی دی تھی اور ان کا ماننا ہے کہ مشہور ہونے کے بعد ان کے اہلخانہ کے پاس کافی پیسہ ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ طالبان مقامی اسکول کی بسیں روک کر بچوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان میں سے کوئی جانتا ہے کہ مرتضیٰ اب کہاں ہے؟۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں لیونل میسی نے اپنے افغان فین سے قطر میں ملاقات کی تھی اور انہیں اپنے ہیرو سے تحفے میں ایک شرٹ ملی تھی۔طالبان کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے بعد تین ہفتے قبل مرتضیٰ کے والدین اپنے پانچوں بچوں کے ہمراہ کابل آ گئے تھے جہاں انہیں گزر بسر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں محض کرائے کی مد میں 90ڈالر ماہانہ ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

مرتضیٰ کے چچا آصف احمدی نے بتایا کہ ہمارے اہلخانہ کو کم از کم 10خط اور متعدد فون کالز موصول ہوئیں جس میں شدت پسندوں اور مختلف جرائم پیشہ افراد نے دھمکی دی کہ اگر ہم نے رقم نہ دی تو وہ میرے بھتیجے کو اغوا یا قتل کر دیں گے۔’ہر کوئی سمجھتا ہے کہ مشہور ہونے کے بعد اب مرتضیٰ اور اس کے گھر والوں کے پاس پیسے ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے کا محافظ کہتا ہے کہ تم لوگوں کو میسی سے بہت رقم ملی ہے لہٰذا ان شدت پسندوں کو بھی پیسے دے دو ورنہ یہ مرتضیٰ کو مار دیں گے۔افغان میں 17سال سے جاری جنگ میں طالبان ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک پر ان کنٹرول حاصل کرتے جا رہے ہیں اور آدھا ملک ان کے قبضے میں یا زیر اثر ہے جبکہ ملک بھر میں جرائم پیشہ گروہ دندناتے پھرتے ہیں۔

افغانستان کی 3کروڑ 80لاکھ آبادی میں سے اکثر غریب افراد پر مشتمل ہے اور جنگ کے سبب ان کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں