انجمن ترقی پسند مصنّفین۔کل اور آج

0
77

حسنین جمیل

hassnainjamil@yahoo.com
1935ءکی ایک سرد شام لندن کی کافی شاپ میں بیٹھے چند دوست آپس میں ادب، ثقافت اور سیاست پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان سب کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ اور یو پی لکھنو کے رہنے والے تھے ان کی زبان اردو تھی بقول
اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زبان آتی
ان تمام دوستوں نے فیصلہ کیا ہندوستان واپس جا کر اردو ادب مین ایک نئی تاریخ سازی کی جائے ۔ چنانچہ واپس آنے کے بعد افسانوں کی ایک کتاب ”انگارے“ کے نام سے شائع ہوئی جس میں سجاد ظہیر اور دوسرے افسانہ نگاروں کے افسانے شامل تھے اور ایک نئی ادبی تنظیم انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بنیاد رکھی گئی جو خالص اردو زبان کے ادیبوں کی تنظیم تھی جس نے اردو ادب میں نئے موضوعات کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم نے لکھاری اردو افسانے اور شاعری کو طلم ہوش ربا سے عام انسانوں کی دنیا میں لے آئے اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اردو زبان کے عظیم شاعر میر، غالب اور اقبال کی شاعری حقیقت نگاری کے زمرے میں نہیں آتی تھی بلکہ کارل مارکس جیسے عظیم مفکر نے جو بات داس کیپٹل جیسی شہرئہ آفاق کتاب میں لکھی کہ دولت پر مراعات یافتہ طبقے نے قبضہ کر رکھا ہے اسی بات کو کارل مارکس سے بھی مدتوں پہلے خدائے سخن میر تقی میر نے کہا:
نہ مل میر اب کے امیروں سے تو
ہوئے ہیں فقیر ان کی دولت سے ہم
مگر اس تحریک نے ادب میں ایک نئی جدت ڈل دی اور اس تحریک سے وابستہ عظیم لکھاریوں نے اپنی تخلیقات کا موضوع عام آدمی کو بنایا اور عام آدمی کے دکھوں کو بیان کیا۔ اس بدترین استحصال کا ذکر کیا جو مراعات یافتہ طبقے نے دوسرے طبقے کا کر رکھا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ دنیا میں دو طرح کے انسان ہیں ایک جن کا استحصال ہو رہا ہے۔ دوسرے وہ جو استحصال کر رہے ہیں۔اس عہد کے اردو زبان کے بڑے بڑے نام پریم چند، کرشن چندر، فیض احمد فیض، راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، حمید اختر، ساحر لدھیانوی، مخدوم محی الدین، علی سرداری جعفری، جان نثار اختر، کیفی اعظمی، عصمت چغتائی جیسے اردو لکھنے والے اس تحریک کا ہراول دستہ بن گئے۔ یہ ٹھیک ہے اس تحریک کی ابتدا اردو زبان کے اعدیبوں نے کی تاہم بعد میں برصغیر کی تمام زبانوں کے ادیب شاعر بھی انجمن ترقی پسند مصنّفین کی فکر سے وابستہ ہو گئے۔ یوں یہ تحریک برصغیر کی تمام زبانوں کی تنظیم بن گئی۔
اردو زبان کے دو ایسے بلند پایہ نام اور فکشن کی دنیا کے بہت بڑے نام ایسے بھی ہیں جو اس تحریک سے وابستہ نہیں ان میں قرة العین حیدر اور سعادت حسن منٹو شامل ہیں۔ یقینا یہ ترقی پسند تحریک کا بہت بڑا خلا تھا ۔ قرة العین حدیر اور سعادت حسن منٹو کے بغیر تو اردو فکشن کی تاریخ نامکمل ہے۔ ایک افسانے کا بادشاہ تھا دوسری ناول کی ملکہ۔ زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس وقت انجمن ترقی پسند مصنّفین نے اپنے اجلاسوں میں ان دونوں ادیبوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور ترقی پسند تحریک سے ان مصنّفین کی تحریروں پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ سب اس وقت کی کمیونسٹ پارٹی کی ایما پر کیا گیا تھا۔ جس کا نقصان ہوا جو متن ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہیں تھے وہ کہنے پر حق بجانب تھے کہ اس ترقی کے پیچھے سیاست دان ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک قابل افسوس بات کہ ادیب سیاست دانوں کی گائیڈ لائن پر چلیں۔ ادیبوں کو کسی سیاسی جماعت سے رہنمائی لینے کی ضرورت نہیں بلکہ ادیب اپنی تخلیقات کے ذریعے سیاست دانوں کو گائیڈ لائن فراہم کرتا ہے۔
1960ءکے قریب انجمن ترقی پسند مصنّفین پر پابندی لگ گئی جس کے بعد برسوں تک یہ جماعت پابندی کا شکار رہی۔ 90کی دہائی کے آخر میں لاہور میں عابد حسین عاعبد، رشید مصباح اور مقصود خالق نے اس تنظیم کو دوبارہ فعال کیا اور ناصر باغ چوبارمیں اجلاس کرانے شروع کیے۔ اس تحریک کو فعال کرنے میں عابد حسین عابد کی خدمات ناقاب فراموش ہیں جن کے اعتراف میں انجمن نے ان کو پرائڈ آف پرفارمنس بھی پیش کیا ہے۔ اس وقت انجمن ترقی پسند مصنّفین کے پاس مرزا اطہر بیگ، خالد فتح محمد، نعیم بیگ، رشید مصباح، نیر اقبال علوی، عبدالوحید، اعجاز فکرال، محمد اختر اور راقم جیسے فکشن رائٹر موجود ہیں جبکہ ان سب کے ساتھ ساتھ سمیع آہوجہ جیسے بلند پایہ ادیب بھی موجود ہیں۔ شاعروں میں نذیر قیصر ،ڈاکٹر سعادت سعید ، اسلم طارق، عابد حسین عابداور بے شمار ہیں۔ حال ہی میں انجمن ترقی پسند مصنّفین نے دو روزہ کانفرنس لاہور میں کروائی جس میں پنجاب ،سندھ، خیبرپختونخواہ ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سے لکھاریوں نے شرکت کی۔ مندومبین نے اردو زبان میں اپنے مقالے پڑھے اور انجمن سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
ایک بات جس کا تذکرہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنّفین نے 2012ءمیں سعادت حسن منٹو پر ایک سیمینار کروایا جس میں اس بات پر معذرت کی گئی کہ ماضی میں سعادت حسن منٹو پر پابندی لگائی گئی اس وقت انجمن ترقی پسند مصنّفین لاہور کے سیکرٹری عبدالوحید تھے یہ انہی کا کارنامہ تھا۔ اب باری قرة العین حیدر کی ہے ان کے لیے بھی ایسی ہی ایک معذرت ضروری ہے اس وقت انجمن ترقی پسند مصنّفین کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صغیر احمد ہیںجن کی خدمات اردو ادب کے لیے گراں قدر ہیں۔ عابد حسن منٹو ، اعترازاحسن، امیتاز عالم، آئی اے رحمان،احمد سلیم جیسے جیّد عالمین نے دو روزہ کانفرنس میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ اس کامیابی کانفرنس کے انعقاد نے انجمن ترقی پسند مصنّفین پنجاب کے صدر اسلم طارق، سیکرٹری احمد خسرو، لاہو ر سے ریاظ احمد، افتخار بیگ، مقصود خالق، عبدالوحید، ڈاکٹر طاہر شبر، مبارک باد کے مستحق ہیں۔ عابد حسن عابد اور ڈاکٹر سعادت سعید ہمیشہ کی طرح ہراول دستہ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here