نیوزی لینڈ دہشتگردی: کئی لوگوں کی تربیت کرنے والا حملہ آور کون ہے؟

0
43

کرائسٹ چرچ(اے پی اردو)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پرحملہ کرنے والے مسلح شخص سے متعلق آسٹریلوی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلیا کے جم میں ٹرینر رہ چکا ہے۔

آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں واقع ’ بگ ریور جم ‘میں ٹرینر کے طور پر کام کیا تھا۔

جم کی منیجر ٹریسی گرے نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کرنے والے مسلح حملہ آور کا نام برینٹن ٹیرنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ برینٹن نے 2009 سے 2011 تک ان کے جم میں کام کیا جس کے بعد وہ ایشیا اور یورپ کے سفر پر روانہ ہوگیا تھا۔ٹریسی گرے نے کہا کہ ’برینٹن ٹیرنٹ ایک بہت اچھا پرسنل ٹرینر تھا‘۔

جم منیجر نے بتایا کہ ’ اس نے ہمارے ایک پروگرام میں بھی کام کیا جس میں بچوں کو مفت ٹریننگ دی جاتی اور وہ اس کے لیے انتہائی پرعزم تھا‘۔ٹریسی گرے کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی ایسا نہیں محسوس ہوا کہ برینٹن ٹیرنٹ کو ہتھیاروں میں دلچسپی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ گزشتہ سالوں میں بیرون ملک سفر کے دوران کسی چیز کی وجہ سے برینٹن میں یہ تبدیلی آئی ہوگی‘۔

ٹریسی گرے نے یہ بھی بتایا کہ برینٹن کے ہائی اسکول میں تعلیم مکمل کرنے سے قبل اس کے والد روڈنی ایزبیسٹوس سے متعلق بیماری کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئے تھے۔

ان کا ماننا ہے کہ برینٹن کی والدہ اور بہن تاحیات ہیں۔ٹریسی گرے نے کہا کہ ’ وہ بہت اچھے تھے اور ٹریننگ سے بہت واقف تھے‘۔

جم منیجر کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ ہر لحاظ سے ایک بہترین فٹنس انسٹرکٹر تھا جو لوگوں کی مدد کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ میں نہیں مان سکتی کہ ایک ایسا شخص، جس کے ساتھ میں نے بات چیت کی، کام کیا وہ ایسا انتہائی قدم اٹھاسکتا ہوگا‘۔

اس کے علاوہ حملہ آور سے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا کا دورہ کرچکا ہے۔

حملہ آور بیرون ملک سفر کے دوران شمالی کوریا بھی گیا جہاں سامجیون گراؤنڈ مونومینٹ میں ٹور گروپ کے ساتھ اس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

اسی رپورٹ میں 1990 میں لی گئی ایک خاندانی تصویر بھی شامل ہے جس سے متعلق کہا گیا ہے کہ برینٹن اپنے والد روڈنی کی گود میں موجود ہیں، روڈنی کی اہلیہ اور بیٹی بھی ان کے برابر کھڑی ہیں۔

حملہ آور نے بتایا تھا کہ بٹ کنیکٹ سے پیسہ کمانے سے قبل اس نے مختصر عرصے کے لیے کام کیا، جس کے بعد اس رقم کو اپنے سفر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا۔

برینٹن ٹیرنٹ نے خود کو آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والا سفید فام شخص ظاہر کیا تھا جس کا تعلق ’ کم آمدن والے، تنخواہ دار طبقے ‘ سے تھا۔

مقامی اخبار ڈیلی ایگزیمنر میں اگست 2010 میں شائع ہونے والی روڈنی ٹیرنٹ کی موت کی خبر میں بتایا گیا تھا کہ ان کی موت اپریل 2010 میں 49 برس کی کینسر سے ہوئی۔

برینٹن ٹیرنٹ کو جسمانی فٹنس میں دلچسپی اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کی رپورٹ میں شائع کی گئی تصویر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ کی یہ تصویر 2018 میں پاکستان کے کسی مقام میں لی گئی تھی۔

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق ٹریسی گرے نے بتایا کہ گزشتہ برس فیس بک پر بھیجے گئے پیغام میں برینٹن ٹیرنٹ نے پاکستان کے دورے کا احوال بتایا تھا کہ ’ یہ دنیا کے سب سے زیادہ مہمان نواز اور رحم دل افراد سے بھر پور حیران کن مقام ہے‘۔

حملہ آور نے کہا تھا کہ ’ خزاں میں وادی ہنزہ اور نگر کی خوبصورتی کو مات نہیں دی جاسکتی‘۔
نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں موجود 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں حملہ آوروں نے اس وقت داخل ہو کر فائرنگ کردی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد 4 حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے۔

فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

مسجد میں فائرنگ کرنے والے ایک شخص نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈٰیا سے ہٹادیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here