کرائسٹ چرچ مسجد حملہ، ملزم 2018ء میں پاکستان آیا،نیا پنڈورا بکس کھل گیا

0
208

کرائسٹ چرچ(اے ون نیوز)کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کرنیوالا آسٹریلوی شہری پاکستان میں رہ کر جاچکا ہے، برنٹن ٹیرنٹ کی تصاویر ایک پاکستانی شہری نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے اکتوبر 2018ء میں شیئر کی تھیں۔

شمالی علاقہ جات کے ضلع نگر میں اوشو تھانگ نامی ہوٹل کے مالک سید اسرار احمد نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہوٹل کے رجسٹر کے مطابق برنٹن ٹیرنٹ اکیلے یہاں آئے تھے، وہ 22 اکتوبر سے 24 اکتوبر 2018ء تک یہاں مقیم رہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر دہشت گرد حملے میں 49 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے حملہ آور برنٹن ٹیرنٹ سمیت 4 افراد کو پولیس نے اسلحہ، خودکش جیکٹ اور بم سمیت گرفتار کرلیا۔

اسرار احمد نے بتایا کہ ہمارے پاس سینکڑوں سیاح آتے ہیں مگر کچھ اپنی طبیعت یا عادتوں کی وجہ سے یاد رہ جاتے ہیں، برنٹن بھی انہی میں سے ایک تھا، میری فیس بک پوسٹ بھی برنٹن نے ہی لکھی تھی کیونکہ میں انگریزی سے نابلد ہوں۔

برنٹن نے اپنی تصویر کے ساتھ کیپشن میں پاکستان کے شمالی علاقوں کی وادیوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بدقسمتی سے پاکستانی ویزہ حاصل کرنے کے تکلیف دہ طریقہ کار اور اس میں درپیش مشکلات کی وجہ سے بہت سے سیاح دوسرے ملکوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

اسرار احمد کہتے ہیں کہ برنٹن گلگت کی جانب سے نگر آئے تھے، ہوٹل میں دو دن قیام کے بعد ہنزہ خنجراب کی جانب چلے گئے، بظاہر وہ بہت انسان دوست شخص تھا، برنٹن نے اس وقت کہا تھا کہ بیرون ملک پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے تھے مگر یہ تو بہت اچھا ملک ہے۔

نگر کے گزشتہ 10 برس سے اپنا ہوٹل چلانے والے اسرار نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کے واقعے میں برنٹن کے ملوث ہونے پر ہمیں حیرت ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کہتے ہیں کہ برنٹن ٹیرینٹ دائیں بازو کا ایک دہشت گرد ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here