آسٹریلیا: مسلمان مخالف سینیٹر کو نوجوان نے انڈا دے مارا

0
32

کینبرا(اے ون نیوز)آسٹریلیا کے نسل پرست اور مسلمان مخالف سینیٹر فریسر ایننگ کی جانب سے نیوزی لینڈ میں مساجد پر ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کا ذمہ دار پناہ گزینوں کو قرار دینے پر ایک نوجوان نے غصے میں آکر بطور احتجاج ان کے سر پر انڈا دے مارا۔

اس حوالے سے منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک سفید فام نوجوان اپنے موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے سینیٹر کے قریب آیا اور ان کے سر پر انڈا دے مارا۔

جس پر سینیٹر فوری طور پر مڑے اور لڑکے کو تھپڑ اور لاتوں سے مارنے لگے، جس پر آس پاس موجود لوگوں نے سینیٹر کو پکڑ کر قابو کیا۔

جبکہ دیگر 2 افرد نے لڑکے کو بری طرح زدوکوب کر کے زمین پر بھینک دیا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کرلیا۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 49 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد سینیٹر فریسر نے ایک بیان جاری کیا تھا۔

جس میں انہوں نے حملے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساری ذمہ داری نیوزی لینڈ میں آنے والے پناہ گزینوں پر عائد کی تھی۔اس کے ساتھ انہوں نے متاثرین سے ہمدردی کرنے کے بجائے مسلمانوں کو دنیا بھر میں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا جبکہ نسل پرست سینیٹر نے اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اشتعال انگیز مذہب کہا اور فاشزم سے تشبیہہ دی۔

آسٹریلوی سینیٹر کے اس متنازع ترین بیان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نہ صرف ان کے اپنے ملک کے شہریوں بلکہ آسٹریلیوی وزیراعظم نے بھی ان کے اس بیان کو نفرت انگیز قرار دیا تھا۔دی سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بیان کی نہ صرف آسٹریلوی پارلیمنٹ بلکہ آسٹریلیا میں بھی کوئی گنجائش نہیں۔

واضح رہے کہ سینیٹر فریسر ایننگ کھلم کھلا اپنے مسلمان مخالف نظریات کا پرچار کرتے ہوئے مسلمان مخالف ٹوئٹس کرتے رہتے ہیں۔ایسے ہی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ کیا اب بھی کسی کو مسلمان مہاجرین اور اشتعال انگیزی سے تعلق کے حوالے سے شک ہے؟

اس کے علاوہ وہ دیگر ٹوئٹس میں بھی صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ وہ آسٹریلوی پارلیمنٹ میں کسی بھی مسلمان رکن کی شمولیت کے سخت مخالف ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here